بے لگام ٹرمپ ‘ دنیا کیلئے خطرہ

   

کیا سوچ کے بنایا ہے بلبل نے آشیاں
مالی ہے معتبر نہ ہی اشجار معتبر
ڈونالڈ ٹرمپ ایسا لگتا ہے کہ اپنا دماغی توازن کھوتے چلے جا رہے ہیں اور وہ نفسیاتی مسئلہ کا شکار ہو کر ساری دنیا کو پریشان کر رہے ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے جھانسہ میں آکر ایران کے خلاف جنگ تو شروع کردی ہے اور انہیں جو یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ جنگ محض چند دن میں جیت لی جائے گی اور ایران میںجو کچھ بھی اسرائیل اور امریکہ کے مقاصد ہیں ان کی تکمیل ممکن ہوسکے گی ۔ تاہم ایسا بالکل نہیں ہوا بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی توقعات کے یکسر برخلاف صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور ایران نے جس طرح سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں جوابی کارروائیاں کی ہیں ان کی وجہ سے ٹرمپ اپنا دماغی توازن کھونے لگے ہیں۔ عالمی میڈیا میں بھی اب ان کے پاگل پن کے تذکرے ہونے لگے ہیں اور ان کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ ٹرمپ یکے بعد دیگر ایسے فیصلے کرتے چلے جا رہے ہیں جن کی وجہ سے خود ٹرمپ کا امیج تو متاثر ہو گیا ہے تاہم اس کی وجہ سے ساری دنیا کے امن کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ دنیا پہلے ہی کئی مسائل کا شکار ہوچکی ہے ۔ دنیا بھر میں معاشی اتھل پتھل چل رہا ہے ۔ معاشی بحران کی کیفیت پیدا ہونے لگی ہے اور ساری دنیا کی معیشت انحطاط کا شکار ہونے کے اندیشے بڑھ گئے ہیں۔ ایران نے حکمت عملی اقدامات کرتے ہوئے ساری دنیا کی توجہ اس جنگ کی جانب مبذول کروالی ہے ۔ اس جنگ میںایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرتے ہوئے ساری دنیا میں توانائی کا بحران پیدا کردیا ہے ۔ ایران نے قطر کی سب سے بڑے گیس ذخیرہ پر بھی حملہ کرتے ہوئے گیس کی سپلائی بھی متاثر کردی ہے ۔ اس کے نتیجہ میں دنیا بھر میں گیس کا بحران بھی پیدا ہوگیا ہے ۔ مغربی ممالک بھی اس کے اثرات سے خود کو محفوظ نہیں رکھ پائے ہیں اور اب روس کی جانب سے بھی تیل کی پیداوار پر روک لگانے کا اشارہ دیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں ساری دنیا پریشان ہوسکتی ہے ۔ یہ سب کچھ بنجامن نتن یاہو کے جھانسہ اور ڈونالڈ ٹرمپ کی غیر مستحکم دماغی حالت کی وجہ سے ہو رہا ہے اورڈونالڈ ٹرمپ بے لگام ہو کر ساری دنیا کیلئے ایک سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی جا رہی ہے ‘ آبنائے ہرمز پر قبضہ کرنے کی بات کہی گئی ہے ۔ ایران کے ساتھ مشترکہ طور پر اس کی نگرانی کا بھی اشارہ دیا تھا ۔ ایران کے کھرگ جزیرہ کو صفحہ ہستی سے مٹادینے کی دھمکی گئی تھی اور آج ایران کے تاریخی شہر اصفہان پر تقریبا ایک ہزار کیلو ایسے بم گرائے گئے جو بنکروں کو تباہ کرسکتے ہیں۔ در اصل ڈونالڈ ٹرمپ کو اس جنگ سے فرار کا راستہ نہیں مل رہا ہے اور وہ شکست تسلیم کرنے یا پھر اپنے مقاصد کے پورے نہ ہونے کا اعتراف کرنے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایران شکست نہ ہونے کے باوجود اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے جنگ کو ختم کرنے کی راہ فراہم کرے ۔ ایران کا جہاں تک سوال ہے تو وہ امریکہ پر بھروسہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہے اور ایران اگر جنگ ختم کرنی ہے تو اپنی شرائط پر ختم کرنا چاہتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کیلئے مستقبل میں حملے نہ کئے جانے کی بین الاقوامی ضمانت دی جائے ۔ امریکہ یا اسرائیل پر وہ بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہے اور نہ ہی وہ اپنی شکست تسلیم کرنے کو تیار ہے ۔ ایران اس جنگ کو طوالت دینے کیلئے بھی تیار ہے اور اس نے امکانی زمینی حملوں سے نمٹنے کی بھی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ اسے مختلف گوشوں سے مدد بھی مل رہی ہے ۔ ایران کی جو کچھ بھی تیاریاں ہیں وہ اپنے دفاع کیلئے ہے جبکہ ٹرمپ اور اسرائیل نے ایک لا یعنی اور بے مقصد جنگ شروع کرتے ہوئے دنیا کیلئے مشکلات میں اضافہ کردیا ہے اور مستقل کو پرخطربنادیا ہے ۔
دنیا کے صحیح الفکر ممالک اور امن پسند ممالک کو آگے آنے اور ٹرمپ پر دباو ڈالنے کی ضرورت ہے کہ وہ جنگ کو ختم کریں۔ یہ نہ امریکہ کی جنگ ہے اور نہ ہی اسرائیل کی راست جنگ ہے ۔ اسرائیل نے صدر ٹرمپ کو جو جھانسہ دیا تھا اس میں ٹرمپ پھنس چکے ہیں اور انہوں نے جنگ شروع کردی تاہم جنگ کے نہ احداف مقرر کئے گئے تھے اور نہ ہی کوئی منصوبہ بنایا گیا تھا ۔ اس کا خمیازہ اب امریکہ کو بھگتنا پڑ رہا ہے اور ٹرمپ جو اقدامات کر رہے ہیں اس کے نتیجہ میں ساری دنیا کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ ٹرمپ ساری دنیا کیلئے خطرہ بن رہے ہیں۔ ان کو روکنے کیلئے ساری دنیا کے ذمہ دار ممالک کو آگے آنا چاہئے ۔