تائی پے : تائیوان کے ایک سرمایہ دار نے چین کا مقابلہ کرنے کے لیے سویلین فوج کی تشکیل کے لیے ایک ارب تائیوان ڈالر یا 32 ملین امریکی ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے ۔برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی ایک رپورٹ کے مطابق تائی پے کے ایک ریٹائرڈ ارب پتی، رابرٹ تساؤ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کے شہریوں اور خواتین کی چین کے خلاف جنگ میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد اگلے تین سالوں میں تیس لاکھ افراد کی تربیت یافتہ فوج بنانا ہے جس میں ملازمین، طلبہ، دکاندار، سبھی اپنے ملک کی حفاظت کے لیے ہتھیار اٹھا سکیں۔ وہ تین لاکھ نشانے باز چاہتے ہیں۔اپنی قمیض پر بلٹ پروف جیکٹ پہنے رابرٹ نے تائیوان میں اپنے نئے شناختی کارڈ کی تصویر بھی اٹھا رکھی تھی، جس کے لیے اس نے اپنا سنگاپوری پاسپورٹ ترک کرنے کے بعد دوبارہ درخواست دی۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ‘میرے خیال میں میرے ملک کے لوگ چینی فوج سے خوفزدہ نہیں ہیں اور اپنے ملک کے دفاع کے لیے ہمیشہ تیار رہیں گے ۔چین میں پیدا ہوئے لیکن تائیوان میں پلے بڑھے رابرٹ نے یونائیٹڈ مائیکرو الیکٹرانکس کارپوریشن کی بنیاد رکھی، ایک سیمی کنڈکٹر کمپنی جس کے لیے یہ جزیرہ اب پوری دنیا میں جانا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک بزنس مین کی حیثیت سے انہوں نے چین کے ساتھ کئی سودے کیے ہیں۔