ترنمول کانگریس کا بکھراؤ

   

بکھری ہوئی وہ ذلف اشاروں میں کہہ گئی
میں بھی شریک ہوں تیرے حالِ تباہ میں
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے نتائج جس وقت سے سامنے آئے ہیں اس وقت سے ہی ترنمول کانگریس پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگی ہے ۔ پارٹی کے کئی ارکان اسمبلی نے پارٹی لائین سے انحراف کرتے ہوئے پارٹی سربراہ ممتابنرجی کے خلاف ایک طرح سے علم بغاوت بلند کردیا تھا ۔ انہوں نے ایک سے زائد مرتبہ پارٹی کے اجلاسوں سے دوری اختیار کی ۔ خود ممتابنرجی کی قیامگاہ پر طلب کردہ اجلاس میں بھی ان ارکان اسمبلی نے شرکت نہیں کی اور پارٹی کے اعلان سے انحراف کرتے ہوئے دبابرتا بنرجی کو قائد اپوزیشن بنانے کی تائید کی تھی ۔ اس سلسلہ میں اسپیکر اسمبلی کو بھی انہوں نے مکتوب روانہ کیا تھا ۔ ترنمول کانگریس کی جانب سے یہ دعوی کیا جا رہا تھا کہ ارکان اسمبلی کو پارٹی اجلاسوں میں شرکت سے روکنے کیلئے دھمکایا جا رہا ہے ۔ انہیں خوفزدہ کیا جا رہا ہے اور ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے ۔ بنگال حکومت اور بی جے پی کی جانب سے اس طرح کے الزامات کی تردید کی گئی تھی ۔ اب پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ نے بھی ایک طرح سے پارٹی میں عملا پھوٹ کا اشارہ دیدیا ہے ۔ پارٹی کے 29 کے منجملہ 20 ارکان اسمبلی نے آج دہلی میں ایک مرکزی وزیر کی قیامگاہ پر اجلاس منعقد کیا اور انہوں نے پارلیمنٹ میںبی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کی تائید کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلہ میں اسپیکر پارلیمنٹ کو مکتوب بھی روانہ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے ۔ ان میںایسے کئی ارکان پارلیمنٹ شامل ہیں جنہوں نے اپنے سارے سیاسی کیرئیر میں بی جے پی کی شدید مخالفت کی تھی اور بی جے پی کی مخالفت کی بنیاد پر ہی انہیں ووٹ ملے تھے اور وہ لوک سبھا کیلئے منتخب ہوئے تھے ۔ اب جبکہ پارٹی بنگال میں اقتدار سے محروم ہوگئی ہے تو یہی قائدین بی جے پی کی گود میں بیٹھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ وہ ایک طرح سے خوف کا شکار ہوگئے ہیں۔ ان کے خلاف انتقامی کارروائی کے اندیشے لاحق ہیں اور وہ قانونی کشاکش سے بچنے کیلئے بی جے پی کا دامن تھامنے ہی کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ یہ در اصل محض اقتدار کی لالچ کا نتیجہ ہے اور وہ نظریات کی اہمیت سے عملا انکار کر رہے ہیں۔ انہیںصرف اقتدار کی فکر لاحق رہ گئی ہے ۔
جو ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ اب بی جے پی کا دامن تھامنے لگے ہیں وہ اس کا کوئی جواز پیش نہیں کرسکتے کہ بی جے پی کی مخالفت کے ذریعہ منتخب ہونے کے بعد بی جے پی کی تائید کس وجہ سے ضروری ہوگئی ہے ۔جس ممتابنرجی کی تعریفیں کرتے ہوئے انہوں نے عوام کا ووٹ حاصل کیا تھا اور ممتابنرجی کے نام پر جنہوں نے اپنی سیاست چمکائی تھی اب وہی ممتابنرجی کو مشکل وقت میں تنہا چھوڑنے میںکوئی عار محسوس نہیں کر رہے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آج کی سیاست میں اخلاقیات اور اقدار کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے اور سیاسی قائدین کیلئے محض عہدے اور اقتدار ہی اہمیت کے حامل رہ گئے ہیں۔ عوام کی تائید کو اپنے فائدہ اور مفادات کیلئے استعمال کرنا آج کل کے سیاستدانوں کا وطیرہ ہوگیا ہے ۔ اگر کسی جماعت سے اختلاف رائے ہوجائے اور نظریات سے اتفاق باقی نہ رہ جائے تو پارٹی چھوڑنے کے ساتھ پارلیمنٹ یا اسمبلی کی رکنیت سے بھی استعفی پیش کرنا چاہئے ۔ قانون انحراف میں جو گنجائش فراہم کی گئی ہے اس کا بھی اب بیجا استعمال ہونے لگا ہے اور ایک یا دو ارکان کی جانب سے انحراف کرنے کی بجائے اب باضابطہ ساری ساری پارٹی میں پھوٹ ڈالی جا رہی ہے اور درکار تعداد میں ارکان کو انحراف کیلئے اکسایا جا رہا ہے ۔ آج کے دور میں اس بات کی ضرورت پیدا ہوگئی ہے کہ پارٹی چھوڑنے کے ساتھ عوامی عہدوں سے بھی استعفی کو لازمی کردیا جائے جس سے اس طرح کی صورتحال کا ازالہ ممکن ہوسکتا ہے ۔
ترنمول کانگریس میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس تعلق سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ ساری صورتحال از خود پیدا نہیں ہوئی ہے بلکہ اس کے پس پردہ کچھ محرکات ضرور ہیں۔ ارکان اسمبلی ہوں یا پارلیمنٹ ہوں ان کو دھمکانے یا خوفزدہ کرنے کے جو الزامات ہیں وہ سرے سے بے بنیاد نہیں کہے جاسکتے ۔ تاہم جو قائدین پارٹی کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں ان کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عہدوں کیلئے عوامی اعتماد سے محرومی ان کے ہی نقصان کا باعث ہوسکتا ہے ۔ ممتابنرجی ایک جدوجہد کرنے والی لیڈر ہیں اور ان کیلئے اب پارٹی کو نئے سرے سے مستحکم کرنے اور دوبارہ عوامی تائید حاصل کرنے کا ایک مشکل کام آگیا ہے ۔