ترنمول کانگریس کے19 ایم پیز کے دستخط والے دستاویزات آشکار

,

   

کولکاتہ، 12 جون (یو این آئی) ترنمول کانگریس کے پارلیمانی گروپ میں ممکنہ تقسیم کے بارے میں قیاس آرائیاں ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہیں۔ پارٹی کے 19 ارکانِ پارلیمنٹ کے مبینہ دستخطوں پر مشتمل کئی صفحات منظرِ عام پر آنے کے بعد مغربی
بنگال سمیت ملک کے مختلف حصوں میں سیاسی بحث چھڑ گئی ہے ۔ ان ارکانِ پارلیمنٹ نے مبینہ طور پر لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو ایک خط لکھ کر الگ پارلیمانی گروپ کے طور پر تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے ۔تاہم اس معاملے میں اب بھی کئی اہم سوالات جواب طلب ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ جن صفحات پر دستخط موجود ہیں وہ کسی باضابطہ خط کا حصہ ہیں یا نہیں یا ایسا کوئی خط واقعی اسپیکر کو بھیجا گیا تھا یا پھر لوک سبھا اسپیکر کے دفتر کو موصول ہوا ہے ۔ منظرِ عام پر آنے والے ان دستاویزات کی صداقت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے ۔ سامنے آنے والے صفحات پر ترنمول کانگریس کے 19 ارکانِ پارلیمنٹ کے دستخط موجود ہیں۔ ان میں پہلا دستخط باراسات کی رکن پارلیمنٹ کاکولی گھوش دستیدار کا بتایا گیا ہے ، جنہیں دستاویز میں پارٹی کا چیف وہپ قرار دیا گیا ہے ۔ ان کے بعد بیر بھوم کی رکن پارلیمنٹ شتابدی رائے کا دستخط ہے ، جن کا عہدہ نائب قائد درج کیا گیا ہے ۔دیگر دستخط کنندگان میں متھوراپور کے باپی ہلدار، بردھمان پورب کی شرمیلا سرکار، ہاوڑہ کے پرسُون بنرجی، کوچ بہار کے جگدیش چندر برما بسونیا، بولپور کے اسیت مال، بانکورہ کے اروپ چکرورتی اور جھارگرام کے کالی پد سورین شامل ہیں۔فہرست میں گھاٹل کے رکن پارلیمنٹ دیپک ادھیکاری (اداکار دیو)، میدنی پور کی رکن پارلیمنٹ جون مالیا اور بیرک پور کے رکن پارلیمنٹ پارتھ بھومک کے دستخط بھی شامل ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دستخطوں کی ترتیب میں ایک نمبر خالی چھوڑا گیا ہے ، جس کے بعد جنگی پور کے رکن پارلیمنٹ خلیل الرحمٰن کا نام آتا ہے ۔دیگر ناموں میں مرشد آباد کے ابو طاہر خان، بہرام پور کے یوسف پٹھان، آرام باغ کی متالی باغ اور کولکاتا جنوبی کی مالا رائے شامل ہیں۔ہگلی کی رکن پارلیمنٹ رچنا بنرجی اور جادوپور کی رکن پارلیمنٹ سیانی گھوش کے دستخط مرکزی ترتیب سے الگ نظر آتے ہیں۔ مبینہ باغی گروپ سے وابستہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان دونوں ارکانِ پارلیمنٹ نے بعد کے مرحلے میں اس دستاویز پر دستخط کیے تھے ۔