انقرہ: ترکیہ کی ڈرون ساز کمپنی بیکر کے چیف ایگزیکٹو نے رائٹرز کو بتایا کہ ان کی کمپنی انڈسٹری میں سپلائی چین کے دباؤ کے دوران پرزوں کی مزید پروڈکشن اندرون ملک لانے کیلئے وسائل مختص کر رہی ہے، اور جیٹ انجن تیار کرنے کیلئے 300 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ترکیہ کے تیار کردہ بیکر ڈرونز کو یوکرینی فوج کی جانب سے روسی افواج کے خلاف اور آذربائیجان اور شمالی افریقہ میں مہمات میں استعمال کیے جانے کے بعد سے عالمی سطح پر اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔بیکر کمپنی کے سی ای او حلوک بیرکتار نے چہارشنبہ کو استنبول میں ایک دفاعی نمائش کے موقع پرانٹرویو میں کہا، کمپنی اس وقت زیادہ سے زیادہ پرزوں کی پروڈکشن کو اندرون ملک تیار کرنے کی کوشش کررہی ہے۔بیرکتارنے کہا کہ اب جب سپلائی چین کا تسلسل دنیا بھر میں ایک اہم مسئلہ ہے، ہم اندرون ملک مینوفیکچرنگ پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ جو چیز دستیاب نہیں ہے وہ ہے انجن اوراب ہم اسے بنانے کا خود اپنا پراجیکٹ شروع کر رہے ہیں۔بیکر کمپنی اپنے اکنجی ڈرونز کے لئے ایک ٹربائن انجن یا ٹربوپروپ انجن تیار کرنے کیلئے اگلے پانچ برسوں میں 300 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔بیرکتار نے کہا کہ دنیا میں اس وقت 13 ہزار پائلٹ جیٹ طیارے ہیں، اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اگلے چار عشروں میں وہ سب خود کار بن جائیں ‘‘انہوں نے مزید کہا ،”وہ پہلے سے زیادہ چھوٹے ہوں گے، خطرناک مشنز میں کام کریں گے اور انہیں بنانا زیادہ آسان ہو گا۔ ان کی تعداد ہمارے پاس اس وقت موجود جیٹ طیاروں سے زیادہ ہو گی۔”بیکر کو اگلے سال ایک یوکرینی فیکٹری مکمل کرنے کی توقع ہے۔بیرکتارنے کہا، “ہم 80 فیصد کنسٹرکشن مکمل کر چکے ہیں اور مشینوں کا آرڈر دیا جارہا ہے۔پروڈکشن کی تاریخ کا تعین جنگ کے حالات کے مطابق کیا جائے گا،لیکن یہ فیکٹری اگست 2025 میں تیار ہو جائے گی۔”توقع ہے کہ فیکٹری TB2 یا زیادہ بھاری TB3 تیار کرے گی۔بیکر کی آمدنی گزشتہ سال 2 ارب ڈالر تھی جو اس سے ایک برس پہلے کے مقابلے میں زیادہ تھی جب اس کی آمدنی ایک اعشاریہ چار ارب ڈالر کے لگ بھگ تھی۔ اس میں 90 فیصد آمدنی غیر ملکی منڈیوں سے حاصل ہوئی۔ کمپنی کے پاس ترکیہ کی کل دفاعی اور ایرو اسپیس برآمدات کا لگ بھگ ایک تہائی حصہ ہے۔