تریپورہ ڈینٹل کالج میںبے ضابطگیاں: وزیر صحت

   

اگرتلہ : وزیر اعظم نریندر مودی کے ہاتھوں تریپورہ ڈینٹل کالج کے افتتاح سے قبل سابق وزیر صحت سدیپ رائے برمن نے ریاست میں بے ضابطگیوں کو لے کرسنگین سوال اٹھائے ہیں۔مسٹر رائے نے اس سلسلے میں چیف سکریٹری جے کے سنہا کو ایک خط لکھا ہے ۔ خط میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اگرتلہ گورنمنٹ میڈیکل کالج (اے جی ایم سی) کے نو اساتذہ کو اگرتلہ کے ڈینٹل کالج میں پہلے سال کے طلباء کو اناٹومی، فزیالوجی اور بائیو کیمسٹری پڑھانے کو کہا گیا ہے ، یہ نیشنل میڈیکل کمیشن کے رہنما اصولوں کی خلاف ورزی ہے ۔ریاست میں ڈینٹل اسپتال شروع کرنے کولے کر حکومت کی طرف سے دکھائی جانے والی جلد بازی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مطلوبہ فیکلٹی کی تقرری کے بغیر ڈینٹل اسپتال شروع کرنے میں اتنی جلدی کیوں؟ اس میں بھی انتہائی قابل اعتراض یہ ہے کہ اس طرح کے غیرقانونی کام میں ملک کے وزیر اعظم کو بھی ملوث کر کے غیر ضروری تنازعہ میں گھسیٹا جا رہا ہے ۔ اس طرح سے کام کرنے سے نہ صرف مجوزہ ڈینٹل کالج کی شبیہ کو نقصان پہنچے گا بلکہ ایم ایم سی کی طرف سے اگرتلہ گورنمنٹ میڈیکل کالج کو دی گئی شناخت پر بھی برا اثر پڑے گا۔برمن نے کہا کہ این ایم سی کے ضوابط کے مطابق اے جی ایم سی کے کل وقتی فیکلٹی اساتذہ کسی دوسرے میڈیکل کالج یا ادارے میں فیکلٹی یا ریزیڈنٹ کے طور پر کام نہیں کر سکتے ہیں۔ اے جی ایم سی نے اگرتلہ کے ڈینٹل کالج میں کلاسیں لینے کے لئے جو اعلان کاہے اس کی وجہ سے ان کا رجسٹریشن منسوخ کیاجاسکتا ہے ، جس سے اے جی ایم سی میں پڑھنے والے ہزاروں طلباء کا مستقبل غیر یقینی کی نذرہوسکتاہے ۔