تشدد سے پاک ہندوستان کیلئے گاندھی جی کا عدم تشدد کا فلسفہ مشعل راہ

   

ملک بھر میں تشدد کے واقعات میں اضافہ پرآل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کا اظہارتشویش
کولکاتا: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے ملک بھر میں تشدد کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کل شام کلکتہ میں تشدد سے پاک ہندوستان کی تعمیر کیلئے جدو جہد کا عزم دہراتے ہوئے کہا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفے پر چل کر ملک میں نفرت کی فضا ختم کی جاسکتی ہے ۔مغربی بنگال آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے زیر اہتمام کل شام ’’تشدد سے پاک انڈیا‘‘ کے عنوان سے ایک سمپوزیم کا انعقاد کیا گیاتھا۔آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدرایڈوکیٹ فیروز احمد نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ مشاورت نہ کوئی سیاسی جماعت ہے اور نہ ہی مذہبی جماعت بلکہ یہ مسلم تنظیموں کاایک وفاقی ادارہ ہے ۔ہم اس موضوع پر کنونشن کا انعقاد کرکے سیاسی ماحول سازی نہیں کررہے ہیں بلکہ ہمارا واضح موقف ہے کہ تشدد، نفرت اور عدم اعتماد کی فضا میں ملک ترقی کے منازل طے نہیں کرسکتا ہے ۔داخلی عدم اعتماد ، عدم رواداری‘ فرقہ واریت کسی بھی ملک کے استحکام کیلئے خطرہ ہوتا ہے ۔اس موقع پر انہوں نے منی پورمیں رونما ہونے والے تشدد کے واقعات کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ منی پور میں گزشتہ تین مہینوں سے تشدد کے واقعات جاری ہیں ۔درجنوں افراد کی جانتیں تلف ہوچکی ہیں ۔عدم اعتماد کی فضا اس قدر بڑھ گئی ہے وہاں کی مقامی کمیونیٹی کے درمیان گفت و شنید ختم ہوچکا ہے ۔انہوں نے اس موقع پر کہا کہ ہم سب بابائے قوم مہاتما گاندھی کا یوم پیدائش منانے رہے ہیں ۔ان کی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔انہوں نے عدم تشدد کے فلسفے کی طاقت کی بدولت کسی بڑے خون و خرابے کے بغیر ملک کو آزادی دلائی، وہ جانتے تھے کہ غلامی کے خاتمے کیلئے تشدد کی راہ اگر اپنا لی گئی تو پھر قتل و غارت گری سے ملک کو بچانا مشکل ہوجائے گا۔کیوں کہ عدم تشدد تخلیقی عمل ہے جبکہ تشدد ایک منفی عمل ۔منفیت کے ذریعہ کوئی بھی مثبت کام انجام نہیں دیا جاسکتا ہے ۔آزادی کا تصور ہی مثبت کام ہے ۔سینئرصحافی اور پریس کونسل آف انڈیا کے ممبر جے شنکرگپتا نے ملک میں نفرت اور تشدد کے واقعات کیلئے براہ راست وزیر اعظم مودی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اگر آج ملک میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے تو اس کیلئے صرف اور صرف وزیر اعظم مودی ذمہ دار ہیں ۔وہ ملک سے نفرت کا خاتمہ کرنا نہیں چاہتے ہیں اس لئے اس طرح کے مواقع پر خاموشی اختیار کرجاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ منی پور پر پوری دنیامیں باتیں ہورہی ہیں اور تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے مگر وزیر اعظم خاموش ہیں ۔انہوں نے سوال کیا کہ اگر 2002میں گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے واقعات رونما نہیں ہوتے تو کیا نریندر مودی ملک کے وزیراعظم ہوتے ۔شنکر گپتا نے کہا کہ مخالفین کی تذلیل ، پروپیگنڈہ بی جے پی کا شیوہ بن گیا ہے ۔

اگر کسی اپوزیشن لیڈر سے کوئی غلط سرزد ہوجائے تو اس کی تذلیل کیلئے پوری آئی ٹی سیل سرگرم ہوجاتی ہے مگر جب اسی طرح کی غلطی وزیر اعظم کرتے ہیں تو وہ اس کا دفاع کرنے لگتے ہیں ۔بلکہ جھوٹ کو سچ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نالندہ کے تاریخی یونیورسٹی تکشیلا سے متعلق وزیرا عظم نے دعویٰ کیا کہ وہ پاکستان میں واقع ہے ۔اکبر دین الہی کو سکندر کے دین الہی بتاتے ہوئے کہا کہ سکندر کا دین الہی عرف ساگر میں غرق ہوچکا ہے ۔مودی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ شیاما پرساد مکھرجی لندن جاکر سوامی وی ویکانند سے مشورہ کرتے تھے اور ان سے پڑھتے تھے ۔اسی طرح شیاما پرساد مکھرجی سے متعلق انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گرو گورکھناتھ، کبیر اور گرونانک سے براہ راست استفادہ کرتے تھے جب کہ دونوں کے درمیان 200سال کا فرق ہے ۔مگر وزیر اعظم مودی کے اس طرح کی تاریخی غلط بیانی پر بی جے پی کنارہ کشی کرنے اور اس کی اصلاح کرنے کے بجائے دفاع کرتی ہے ۔اگر اس طرح کی غلط تاریخ بیانی کسی اور اپوزیشن لیڈر سے ہوجاتی تو صرف بی جے پی نہیں بلکہ میڈیا بھی اس لیڈر کی تذلیل کرنے لگتی ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی میں خود اعتمادی کا عالم یہ ہے کہ وہ بہت ہی آسانی سے جھوٹ بولتے ہیں یا پھر غلط بیانی سے کام لیتے ہیں ۔انہوں نے شملہ معاہدہ سے متعلق کہا کہ اندرا گاندھی اور بے نظیر کے درمیان ہوا ۔جب کہ شملہ معاہدہ کے وقت بے نظیر بھٹو محض 16سال کی تھی اور ان کے والد ذوالفقار علی بھٹوپاکستان کے وزیر اعظم تھے ۔اسی طرح انہوں نے کہا کہ دربھنگہ میں ایمس کام کررہا ہے ۔جب کہ دربھنگہ میں ایمس کا سنگ بنیاد نہیں رکھا ہے ۔
میگسیسے ایوارڈ یافتہ سندیپ پانڈے نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گرچہ ملک بھر میں تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں مگر گجرات میں جو صورت حال ہے وہ ابھی کسی اور ریاست میں نہیں ہوئے ہیں ۔تشدد کے واقعات کے باوجود اترپردیش میں میں ووٹنگ کا انداز مختلف ہے ، ہندو مسلم دونوں ہی ایک ساتھ رہتے ہیں۔ گجرات میں احمد آباد جیسے شہر میں ہندو اور مسلمان مختلف علاقوں میں رہتے ہیں۔ ہندو علاقوں میں آپ مسلمانوں سے نہیں ملیں گے اور مسلم علاقوں میں ہندو نہیں رہتے ۔انہوں نے کہا کہ یہ صورت حال بتاتی ہے کہ اگر ہم نفرت کی فضا کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے تو کامیابی ضرورملے گی ۔
سپریم کورٹ کے سابق جج اشوک گنگولی نے سیاسی جماعتوں کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی لیڈران خود کو غیر محفو ظ تصور کرتے ہیں اس لئے وہ تشدد کو فروغ دیتے ہیں اگر وہ تشدد کو فروع نہیںدیں گے تو وہ انتخاب ہار جائیں گے ۔ریٹائرڈ جسٹس نے یہ بھی کہا کہ بابری مسجد کیس میں سپریم کورٹ کی طرف سے بھی تشدد ہوا ہے ۔ جب اے ایس آئی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ بابری مسجد کے اندر مندر کا کوئی ڈھانچہ نہیں ہے تو پھر وہ ہندوؤں کے حق میں فیصلہ کیسے دے سکتے ہیں؟دراصل اس کے ذریعہ سپریم کورٹ کے ججوں نے سماج کے ایک طبقے میںخوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی تھی ۔
اس کنونشن سے صحافی عارفہ خانم شیروانی ، سابق ممبر پارلیمنٹ طارق انور اور دیگر افراد نے شرکت کی۔ترنمو ل کانگریس کے کئی سینئر لیڈران اس پروگرام میں شرکت کرنے والے تھے مگر ان میں سے کسی نے بھی خطاب نہیں کیا ۔