تعلیمی سال 2019-20 کے دوران انجینئرنگ نشستوں میں تخفیف

   

تلنگانہ کے 26 خانگی انجینئرنگ کالجس اجازت ناموں سے محروم ، دیگر پیشہ وارانہ کورسیس کے نشستوں میں بھی کمی
حیدرآباد۔7جون(سیاست نیوز) ریاست تلنگا نہ میں موجود انجینئرنگ کالجس کی نشستوں میں تعلیمی سال 2019-20 کے دوران تخفیف کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن نے ریاست تلنگانہ کے 26 خانگی انجنیئرنگ کالجس کو اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے سبب ریاست میں موجود جملہ انجنیئرنگ کی نشستوں میں 9000 نشستوں کی کمی ریکارڈ کی جائے گی۔ اے آئی سی ٹی ای نے سال گذشتہ ریاست میں جملہ 226خانگی کالجس کو اجازت نامہ دیا تھا جس کے سبب ریاست میں جملہ 1لاکھ 14ہزار819 نشستیں فراہم کی گئی تھیں لیکن جاریہ سال اے آئی سی ٹی ای کی جانب سے 26کالجس کے اجازت ناموں کو منسوخ کئے جانے کے سبب صورتحال ابتر ہوچکی ہے اور ریاست میں 9000نشستوں کی تخفیف ریکارڈ کی جا رہی ہے۔بتایاجاتا ہے کہ جاریہ سال انجنیئرنگ کالجس کی تعداد صرف 200 رہے گی جن میں جملہ 1لاکھ 5ہزار120 نشستیں موجود رہیں گی۔ ریاست تلنگانہ میں گذشتہ 5برسوں سے پرفیشنل کالجس انحطاط کا شکار ہیں اور ان پروفیشنل کالجس کے انتظامیہ کی جانب سے اپنے طور پر کالجس کو بند کرنے کافیصلہ کیا جا رہا ہے کیونکہ انہیںمختلف اجازت ناموں کے حصول کے باوجود بھی داخلوں میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن کے ذرائع کے مطابق ریاست تلنگانہ میں نہ صرف انجنئیرنگ کالجس بلکہ دیگر پروفیشنل کالجس کے لئے بھی مسائل پیدا ہوچکے ہیں اور کئی انتظامیہ شرائط کی تکمیل نہ کرپانے کے سبب کالجس کو بند کررہے ہیں لیکن جاریہ سال اے آئی سی ٹی ای کی جانب سے بھی شرائط پورے نہ کرنے والے کالجس کو اجازت نہیں دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق جاریہ سال فارمیسی کی نشستوں میں بھی تخفیف ریکارڈ کی جا رہی ہے کیونکہ سال گذشتہ 130 خانگی کالجس میں 11ہزار 260نشستیں موجود تھیں لیکن اس سال کالجس کی تعداد گھٹ کر 124ہوگئی ہے جن میں 10ہزار762نشستیں موجود ہیں۔اسی طرح ایم بی اے اور ایم سی اے کی نشستوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور کہا جار ہاہے کہ ایم بی اے اور ایم سی اے کالجس میں بھی داخلوں میں گراوٹ کو دیکھتے ہوئے کالجس رضا کارانہ طور پر انہیں حاصل اجازت ناموں کو منسوخ کروانے کے لئے درخواستیں داخل کر رہے ہیں جس پر کی جانے والی کاروائی کے سبب نشستوں میں گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے۔