صدورنشین کے بلند بانگ بیانات ، عمل ندارد ، محکمہ اقلیتی بہبود کی عدم دلچسپی
حیدرآباد۔21۔ستمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی اور تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی فینانس کی سرگرمیاں نئے صدورنشین کے جائزہ لینے کے بعد بھی اب تک شروع نہیں ہوپائی ہیں جب کہ دونوں صدورنشین نے اپنے جائزہ حاصل کرنے کے فوری بعد اس بات کا اعلان کیا تھا دونوں اداروں کی بند اسکیمات کو فوری طور پر شروع کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے اور اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے گا لیکن دونوں ہی اداروں میں ایسا ممکن نہیں ہوپایا ہے جو کہ ریاست تلنگانہ میں اردو زبان کی حالت زار اور اقلیتوں کی معاشی بہتری کے لئے قائم کئے گئے ادارہ سے حکومت اور سرکاری عہدیداروں کی عدم دلچسپی کو ثابت کرتا ہے۔ اردو اکیڈیمی اور ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی اسکیمات کے احیاء کے سلسلہ میں حکومت کو روانہ کئے جانے والے مکتوبات پر عہدیدارو ںکی جانب سے کاروائی کے بجائے انہیں برفدان کی نذر کرتے ہوئے صدورنشین کے منصوبوں پر پانی پھیرتے ہوئے حکومت کی نیک نامی کو متاثر کرنے کیا جانے لگا ہے۔ان ادارو ںکی کارکردگی کو بہتر بنانے اور اسکیمات کے احیاء کے لئے صدورنشین کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات میں پیدا کی جانے والی رکاوٹ کے سلسلہ میں کہا جار ہاہے کہ حکومت اور متعلقہ وزیر کے متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود اسکیمات کے احیاء کے اقدامات کے بجائے محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدارو ںکی جانب سے حکومت کی منظوری کے بعد دوبارہ حکومت کو فائل روانہ کرتے ہوئے یہ کہا جا رہاہے کہ حکومت کی رائے حاصل کی جا رہی ہے۔تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی اسکیمات کے احیاء کے سلسلہ میں رہنمایانہ خطوط کی تیاری اور منظوری کے باوجود عہدیدارو ںکی جانب سے حکومت کی رائے کے حصول کا انتظار کیا جا رہاہے جبکہ اردو اکیڈیمی نے جو ایوارڈس اور اسکیمات کے احیاء کا منصوبہ تیار کیا ہے اسے اب تک منظوری بھی نہیں دی گئی ہے جس سے محکمہ اقلیتی بہبودکے عہدیداروں کی ان اداروں اور اسکیمات سے بے اعتنائی اور پرواہی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ذرائع کے مطابق دونوں اداروں کے صدورنشین نے اس سلسلہ میں مختلف منتخبہ نمائندوں سے اداروں کی صورتحال اور عہدیداروں کے رویہ کے متعلق واقف کروایاہے۔ م