بھاری رقومات وصول کرنے کے الزامات، صدرنشین کی ایماء پر سکریٹری / ڈائرکٹر کا اقدام
حیدرآباد۔31۔اگسٹ(سیاست نیوز) روزنامہ سیاست کے 18 اگسٹ کے شمارہ میں تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی کے ڈائریکٹر سیکریٹری کے تقرر پر جن خدشات کا اظہار کیا گیا تھا وہ پورے ہوچکے ہیں۔ اردواکیڈیمی میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں اور بدعنوانیوں کی مسلسل شکایات کے دوران تلنگانہ ریاستی حج کمیٹی کے اکزیکیٹیوآفیسر سجاد علی کو 13اگسٹ کو سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود جناب بی شفیع اللہ آئی ایف ایس نے انچارج ڈائریکٹر سیکریٹری تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی کے عہدہ کی زائد ذمہ داری تفویض کی تھی اور روزنامہ سیاست نے 18 اگسٹ کو اردو اکیڈیمی میںموجود آؤٹ سورسنگ اور کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کی سازش کا انکشاف کیا تھا اور اب اردو اکیڈیمی میں خدمات انجام دینے والے اردو سے نابلد اور نااہل ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں احکامات کی اجرائی عمل میں لائی جاچکی ہے۔ اردواکیڈیمی میں جاری سنگین بدعنوانیوں اور تقررات کو باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں صدرنشین اردو اکیڈیمی جناب طاہر بن حمدان سے رابطہ کرنے پر انہوں نے کوئی جواب دینے کے بجائے مصروف ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے فون کاٹ دیا۔ اردو اکیڈیمی میں خدمات انجام دینے والے سپرٹنڈنٹ وی کرشنا نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ سجاد علی انچارج ڈائریکٹر نے اپنی 15یوم کی خدمات کے دوران 16 ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے احکام جاری کئے ہیں۔ تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی ہو یا کوئی اور ادارہ ہو اگر اس کے سربراہ کے عہدہ پر کسی عہدیدار کو انچارج کی حیثیت سے ذمہ داری تفویض کی جاتی ہے تو یہ ذمہ داری روزمرہ کے امور کی انجام دہی کے لئے ہوا کرتی ہے لیکن سجاد علی نے اس عہدہ کی زائد ذمہ داری کے حصول کے ساتھ ہی اپنے منصوبہ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے بڑے پیمانے پرملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے اور آؤٹ سورسنگ ملازمین کو کنٹراکٹ پر لینے کے احکام جاری کئے ہیں جو کہ غیر قانونی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے مختلف ادارہ ٔ جات میں ملازمین کے تقرر اور ان کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کی جامع تحقیقات کے سلسلہ میں مسلسل شکایات کے باوجود تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کی خدمات کو بھاری رقومات کے عوض باقاعدہ بنائے جانے کے الزامات عائد کئے جانے لگے ہیں جن کی فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا جانا چاہئے تاکہ قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اقرباء پروری کرنے والے عہدیداروں کے خلاف کاروائی کو یقینی بنایا جاسکے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے پیشرو حکومت کی جانب سے کنٹراکٹ ملازمین کو باقاعدہ بنائے جانے کے احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس طرح کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا تھا ۔ ذرائع کا کہناہے کہ انچارج ڈائریکٹر سیکریٹری جو کہ وظیفہ پر سبکدوش ہوچکے ہیں وہ یہ ادعا کر رہے ہیں کہ انہوں نے صدرنشین اردو اکیڈیمی اور سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود کی رضا مندی کے بعد ہی اردواکیڈیمی کے ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے اقدامات کئے ہیں۔3