تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں جگن کے حصہ لینے کی قیاس آرائیاں

,

   

تلنگانہ کی دو شخصیتوں کو راجیہ سبھا ٹکٹ سیاسی حلقوں میں موضوع بحث، ووٹ کی تقسیم کے ذریعہ ٹی آر ایس کو فائدہ

حیدرآباد۔18۔ مئی (سیاست نیوز) سیاست میں مستقل دوست اور دشمن نہیں ہوتا۔ اس محاورہ پر آئندہ اسمبلی انتخابات میں عمل آوری کے لئے وائی ایس جگن موہن ریڈی کوشاں دکھائی دے رہے ہیں۔ راجیہ سبھا کی چار نشستوں کیلئے جگن موہن ریڈی نے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی دو شخصیتوں کا انتخاب کرتے ہوئے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑدی ہے ۔ آندھرا پردیش میں راجیہ سبھا کی نشست کے کئی دعویدار تھے لیکن جگن نے اپنے وکیل نرنجن ریڈی اور بی سی لیڈر آر کرشنیا کو راجیہ سبھا کیلئے نامزد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ہر کسی کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جگن موہن ریڈی آئندہ اسمبلی انتخابات میں بالواسطہ طور پر ٹی آر ایس کی مدد کرسکتے ہیں۔ تلنگانہ کی دو شخصیتوں کو راجیہ سبھا کا ٹکٹ دے کر جگن موہن ریڈی نے اس بات کے واضح اشارے دیئے ہیں کہ وہ تلنگانہ کے اسمبلی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔ وائی ایس آر کانگریس کے انتخابات میں حصہ لینے کی صورت میں مخالف ٹی آر ایس ووٹ منقسم ہوجائیں گے جس کا فائدہ ٹی آر ایس کو ہوگا۔ کانگریس اور بی جے پی کے علاوہ وائی ایس آر کانگریس کے درمیان مخالف حکومت ووٹوں کی تقسیم سے کے سی آر چیف منسٹر کے عہدہ کیلئے ہیٹ ٹرک کرسکتے ہیں۔ کرشنا اور گوداوری کے پانی کی تقسیم اور آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر کے مسئلہ پر دونوں ریاستوں کے درمیان اختلافات موجود ہیں لیکن سیاسی سطح پر دونوں جماعتوں میں درپردہ مفاہمت کے امکانات ہیں۔ ریاست کی تقسیم کے بعد سے کے سی آر اور جگن نے خوشگوار تعلقات کو بحال رکھا ہے۔ کے سی آر کو بی جے پی اور کانگریس کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا ہے اور حالیہ عرصہ میں راہول گاندھی اورامیت شاہ کے دورہ کے بعد دونوں پارٹیوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگیا۔ ان حالات میں کے سی آر کو کسی غیبی مدد کا انتظار ہے۔ جگن موہن ریڈی کو تلنگانہ کے انتخابات سے اگرچہ کوئی دلچسپی نہیں لیکن پیش قیاسی کی جارہی ہے کہ کے سی آر کو فائدہ پہنچانے کیلئے وہ مقابلہ کرسکتے ہیں۔ پارٹی قائدین کا کہنا ہے کہ پسماندہ طبقات کی تائید حاصل کرنے کیلئے جگن نے آر کرشنیا کو راجیہ سبھا کی نشست کا تحفہ دیا۔ کرشنیا سابق میں تلگو دیشم پارٹی سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ دوسری طرف جگن کے وکیل ایس نرنجن ریڈی جن کا تعلق نرمل ضلع سے ہے، غیر متوقع طور پر راجیہ سبھا کے امیدوار کے طور پر ابھرے ہیں۔ نرنجن ریڈی قانون داں کے علاوہ فلم پروڈیوسر بھی ہیں۔ واضح رہے کہ جگن نے میگااسٹار چرنجیوی کو راجیہ سبھا کی نشست کا پیشکش کیا تھا لیکن انہوں نے قبول نہیں کیا۔ر