تعلیمی ترقی کے دعوے کھوکھلے، پبلک سرویس کمیشن میں بھی صرف ایک مسلم رکن ، تعلیمیافتہ طبقہ میں بے چینی
حیدرآباد 23 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کی جانب سے کئی اہم اور پالیسی ساز اداروں کی تشکیل میں اقلیتی طبقات کو نظرانداز کرنے پر مسلم اقلیت بالخصوص تعلیم یافتہ اور دانشور طبقہ میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ تعلیمی پالیسی کے تعین کیلئے تلنگانہ ایجوکیشن کمیشن تشکیل دیا گیا جبکہ تعلیمی پالیسی کے مسودے کو قطعیت دینے اعلیٰ اختیاری کمیٹی تشکیل دی گئی۔ ان دونوں میں مسلم اقلیت کی نمائندگی نہیں ہے حالانکہ اقلیتیں تعلیمی شعبہ میں کافی پسماندہ ہیں اور حکومت اُن کی تعلیمی ترقی کے حق میں اقدامات کے بلند بانگ دعوے کررہی ہے۔ 4 ستمبر 2024ء کو تلنگانہ ایجوکیشن کمیشن تشکیل دیا گیا اور ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار اے مرلی کوصدرنشین مقرر کیا گیا۔ ارکان کے طور پر عثمانیہ یونیورسٹی کے ریٹائرڈ پروفیسر ٹی ایل ویشویشور راؤ، ڈاکٹر سی ایچ وینکٹیش اور شریمتی کے جوسنا شیوا ریڈی کو نامزد کیا گیا۔کمیشن کی موجودگی میں حکومت نے 29 اگست 2025ء کو علیحدہ کمیٹی تشکیل دی جو تلنگانہ رائزنگ 2047 ویژن ڈا کیومنٹ کیلئے تعلیمی پالیسی کا تعین کرے گی۔ کمیٹی کے صدرنشین کے طور پر حکومت کے مشیر ڈاکٹر کے کیشو راؤ کو مقرر کیا گیا۔ سکریٹری محکمہ تعلیم ڈاکٹر یوگیتا رانا، ممبر کنوینر مقرر کی گئیں۔ کمیٹی کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ قومی تعلیمی پالیسی 2020ء کا جائزہ لیتے ہوئے ریاست میں ہر سطح پر تعلیمی نظام کو بہتر بنانے 30 اکٹوبر تک حکومت کو سفارشات پیش کریں۔کمیٹی کے صدرنشین کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے طور پر ماہرین تعلیم کو بطور ارکان شامل کرسکتے ہیں۔ ایجوکیشن کمیشن اور تعلیمی پالیسی تیار کرنے والی کمیٹی دونوں میں اقلیتی اُمور پر نظر رکھنے والے ماہرین کی شمولیت کی ضرورت تھی۔ حکومت کی جانب سے چند ایک اقلیتی اداروں میں سیاسی قائدین کو نمائندگی دیتے ہوئے مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ تعلیمی ترقی سے متعلق کمیشن اور کمیٹی میں مسلم نمائندگی کی ضرورت کہیں زیادہ ہے۔ اِسی دوران حکومت نے تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن میں 3 نئے ارکان کا تقرر کیا ہے جن میں چندرا کانت ریڈی، وشوا پرساد آئی پی ایس اور پروفیسر ایل بی لکشمی کانت راتھوڑ شامل ہیں۔ کمیشن کے موجودہ ارکان میں عامر اللہ خان، پروفیسر این یادیا اور شریمتی پی رجنی کماری شامل ہیں۔ نئے ارکان کی شمولیت سے کمیشن کے ارکان کی تعداد بڑھ کر 6 ہوچکی ہے۔ کمیشن کے ذریعہ اقلیتوں کو تحفظات کے تحت روزگار میں مناسب حصہ داری کے لئے مزید ایک رکن کو شامل کرنے کی ضرورت تھی لیکن حکومت نے محض 3 ارکان کو شامل کیا اور مسلم اقلیت کو نظرانداز کردیا گیا۔ مسلمانوں کے تعلیم یافتہ اور دانشور طبقہ کا احساس ہے کہ حکومت اگر اقلیتوں کی تعلیمی ترقی میں سنجیدہ ہوتی تو وہ ایجوکیشن کمیشن اور پالیسی ساز کمیٹی میں ضرور نمائندگی دیتی۔1