تلنگانہ فائر ڈپارٹمنٹ میں خاتون فائر فائٹرس کے تقررات کیلئے حکومت کو تجاویز روانہ

   

منظوری پر خواتین کو بھرتیوں میں 33% ریزرویشن دیا جائے گا :ڈائریکٹر جنرل وائی ناگی ریڈی
حیدرآباد۔ 20 مئی (سیاست نیوز) ریاستی ڈیزاسٹر ریسپانس اور فائر ڈپارٹمنٹ عملہ میں خواتین کے تقرر کی تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔ جس طرح پولیس تقررات میں خواتین کو 33% تحفظات فراہم کئے گئے، اسی پالیسی کے تحت فائر ڈپارٹمنٹ میں بھی خواتین کو 33% ریزرویشن دینے کی تجویز تیار کی گئی ہے۔ فائر ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں نے ایک تجویز ریاستی حکومت کو روانہ کی ہے۔ اگر اس تجویز کو منظوری مل جاتی ہے تو فائر ڈپارٹمنٹ کی بھرتیوں میں خواتین کیلئے ریزرویشن اگلے نوٹیفکیشن سے نافذ ہوجائے گا۔ فائر ڈپارٹمنٹ نے فرائض انجام دینے کیلئے جسمانی طور پر فٹ ہونا، سخت فٹنس ٹسٹ میں کامیاب ہونا ضروری ہے۔ اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے فائر ڈپارٹمنٹ میں خواتین کی بھرتی عمل میں نہیں آئی، لیکن تلنگانہ کے فائر ڈپارٹمنٹ نے دیگر ممالک اور ملک کی مختلف ریاستوں میں چلائی جانے والی پالیسیوں کا مطالعہ کیا ہے۔ حکومت کو اطلاع دی ہے کہ خواتین کو بھی فائر فائٹرس بننے کا موقع دیا جانا چاہئے۔ ملک کی دیگر ریاستوں میں تملناڈو اور مہاراشٹرا میں فائر ڈپارٹمنٹس میں خواتین خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ممبئی فائر ڈپارٹمنٹ نے خواتین کی بھرتی کیلئے خصوصی تربیتی پروگرام چلائے جارہے ہیں۔ 2019ء میں تملناڈو حکومت نے خواتین کیلئے خصوصی بھرتی کا عمل شروع کیا ہے اور ان میں سینکڑوں خواتین نے تربیت حاصل کی اور فائر ڈپارٹمنٹ میں شامل ہوگئی۔ تلنگانہ کے فائر ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں نے ان ریاستوں میں اپنائی گئی پالیسیوں کا مطالعہ کیا۔ یہاں بھی خاتون عملہ کی بھرتی کیلئے حکومت کو تجاویز روانہ کیا۔ فائر ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل وائی ناگی ریڈی نے کہا کہ فائر ڈپارٹمنٹ میں خاتون عملہ کا تقرر کرنے کے لئے انتظامات کئے جارہے ہیں۔ اگر حکومت اس کی اجازت دیتی ہے تو ہم ریاست میں خواتین کیلئے ریزرویشن فراہم کرتے ہوئے تقررات کریں گے۔ فائر ڈپارٹمنٹ نے ریاستی حکومت کو چند دیگر تجاویز بھی پیش کی ہے، جن میں خاتون عملہ کیلئے تقررات بھی شامل ہیں۔ اگرچہ فائر ڈپارٹمنٹ کے اجازت نامہ موجودہ ضابطہ کے تحت صرف اونچی عمارتوں کیلئے ہی ضروری ہیں لیکن اب اسے غیراونچی عمارتوں میں کام کرنے والے کاروباری اداروں کیلئے لاگو کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ساتھ میں موجودہ قوانین ترمیم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے گا کہ چھوٹے گوداموں، صنعتوں اور فرنیچر بنانے والے یونٹس جو حادثے کا شکار ہورہے ہیں، اس لئے قواعد میں ترمیم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ 2