امیدواروں میں غیر مسلم دعویدار بھی شامل رہیں گے ۔ باوثوق ذرائع کا دعوی
حیدرآباد /21 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) تلنگانہ میں 50 سے زائد اسمبلی حلقوں میں مقابلہ کرنے کی تیاری کرنے والی مجلس نے ایک سال قبل ہی مقابلہ کرنے والی نشستوں کی نشاندہی کے عمل کا آغاز کردیا ہے ۔ دونوں شہروں میں حیدرآباد سکندرآباد کے علاوہ مضافات کے ساتھ اضلاع میں مسلم غلبہ والی نشستوں کے ساتھ چند پسماندہ طبقات کیلئے مختص اسمبلی حلقوں سے بھی ہندو امیدواروں کو میدان میں اُتارنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ابھی تک اضلاع میں 17 اسمبلی حلقوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ جن میں نظام آباد ( اربن ) سنگاریڈی ، کریم نگر ، بودھن ، کاماریڈی ، نرمل ، مدھول ، عادل آباد، کاغذنگر ، کورٹلہ ، بھونگیر ، ورنگل ( ایسٹ ) محبوب نگر ، کھمم ، ظہیرآباد ، وقارآباد ، شادنگر پر مقابلہ کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ ان اسمبلی حلقوں پر مجلس کی نظر ہے اور وہاں مجلس کی سیاسی طاقت میں اضافہ کرنے کی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے ۔ پارٹی سرگرمیوں کو اضلاع تک توسیع دینے اور پارٹی کیڈر کو مضبوط و مستحکم کرنے ان حلقوں میں پارٹی انچارجس کو نامزد کرنے پر بھی سنجیدگی سے غور کر رہی ہے ۔ جن اسمبلی حلقوں میں مقابلہ کی مجلس کی تیاری کر رہی ہے وہاں کے مقامی مسائل کو اٹھانے اور حکومت تک پہونچانے کی تیاری کر رہی ہے ۔ چند بی سی اور ایس سی ایس ٹی قائدین کو بھی پارٹی میں شامل کرنے اور انہیں بھی انتخابی میدان میں اُتارنے کے امکان کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ چند طلبہ تنظیموں کے نمائندے اور پسماندہ طبقات کے بھی چند قائدین صدر مجلس اسدالدین اویسی سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں ۔ مجلس قطعی منصوبہ تیار کرکے اپنی توجہ پر گراؤنڈ ورک پر مرکوز کرچکی ہے ۔ گذشتہ اسمبلی انتخابات میں بھی مجلس نے حیدرآباد کے علاوہ چند نشستوں پر مقابلہ کیا تھا ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ مجلس نے مسلمانوں کے ساتھ اس مرتبہ ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی ووٹوں پر زیادہ فوکس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کی تائید سے اسمبلی میں اپنی سیاسی طاقت میں اضافہ پر زیادہ توجہ دے رہی ہے ۔ آئندہ اسمبلی انتخابات میں مجلس متحدہ ضلع نظام آباد کی تین نشستوں پر مقابلہ کرنے کا جائزہ لے رہی ہے ۔ پارٹی کیڈر کو صدر مجلس نے اشارہ بھی دے دیا ہے ۔ 2019 کے اسمبلی انتخابات میں مجلس نے نظام آباد ( اربن ) سے میر مجاز کو اپنا امیدوار بنایا تھا ۔ جنہیں دوسرا مقام حاصل ہوا تھا ۔ ٹی آر ایس کو جہاں 31.15 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے وہی مجلس کے امدیوار کو 23.53 فیصد ووٹ ملے تھے ۔ نظام میونسپل کارپوریشن کی جملہ 50 نشستوں میں 16 پر مجلس کا قبضہ ہے ۔ یہاں مجلس طاقتور امیدوار کو میدان میں اُتارتی ہے تو کامیابی بھی ہوسکتی ہے ۔ اسمبلی حلقہ بودھن میں مسلم ووٹرس کی اکثریت ہے ۔ میونسپلٹی کے 38 وارڈس میں 11 وارڈس پر مجلس کا قبضہ ہے ۔ بھینسہ میونسپلٹی پر مجلس کا قبضہ ہے ۔ کریم نگر میونسپل کارپوریشن میں مجلس کے 6 کارپوریٹرس ہیں اس طرح مختلف اضلاع میں مسلم غلبہ والی نشستوں کا انتخاب کرنے کے دوران وہاں کے بی سی اور ایس سی ایس ٹی ووٹوں کو مجلس کی طرف ہموار کرنے سماج میں اثر و رسوخ رکھنے والے پسماندہ طبقات کے قائدین کو بھی امیدوار بنانے پر غور کیا جارہا ہے ۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں مجلس کی توسیع کیلئے کام کرنے والے اسد الدین اویسی آبائی ریاست تلنگانہ میں مجلس کی توسیع کا فیصلہ کیا ۔ دارالسلام میں جلسہ رحمتہ اللعلمینؐ سے خطاب میں صدر مجلس اسد اویسی نے پارٹی کیڈر بالخصوص اضلاع کے کیڈر کو مشورہ دیا کہ وہ مقامی مسائل کو میڈیا کے ذریعہ پیش کریں ۔ کلکٹر اور عہدیداروں سے نمائندگی کریں ساتھی ہی مجلس ہیڈ کوارٹر سے رجوع ہوں ۔ مجلس کے ارکان اسمبلی ان کو اسمبلی میں موضوع بحث بنائیں گے ۔ ن