انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی سرگرمیوں کا آغاز، متعدد شکایتوں کا جائزہ
حیدرآباد۔3جولائی (سیاست نیوز) مہاراشٹرا میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد ریاست تلنگانہ میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی سرگرمیوں میں ہونے والے اضافہ پر کہا جا رہاہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست تلنگانہ میں سیاسی ہلچل پیدا کرنے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی رکن پارلیمنٹ ناما ناگیشور راؤ کے 96.21 کروڑ کے اثاثوں کی ضبطی کے بعد سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی تلنگانہ میں سرگرمیوں کا آغاز تلنگانہ راشٹر سمیتی کے لئے اچھا شگون ثابت نہیں ہوگا اور رکن پارلیمنٹ کھمم کے بعد اب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو تلنگانہ سے موصول ہونے والی دیگر شکایات پر بھی کاروائیوں کے آغاز کا امکان ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ریاستی حکومت میں شامل وزراء کے علاوہ ایسے صنعتکار اور رئیل اسٹیٹ تاجرین جو حکومت سے قریب ہیںان کے خلاف بھی کاروائی کی جاسکتی ہے ۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی اور بھارتیہ جنتاپارٹی میں پیدا ہونے والے اختلافات اور دونوں سیاسی جماعتوں کے قائدین کے درمیان جاری بیان بازیوں کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے تلنگانہ میں حکومت کی بدعنوانیوں کے خلاف کاروائی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ حکومت تلنگانہ کی بدعنوانیوں کے سلسلہ میں کانگریس ارکان پارلیمان مسٹر اے ریونت ریڈی کے علاوہ مسٹر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے بھی مرکزی حکومت اور تحقیقاتی ایجنسیوں کو شکایات روانہ کرتے ہوئے کاروائی کی درخواست کی تھی علاوہ ازیں عیسائی مبلغ کے اے پال نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کرتے ہوئے حکومت تلنگانہ کی جانب سے کی جانے والی بدعنوانیوں کی شکایت کی تھی ۔ انہوں نے سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے علاوہ مرکزی وزیر داخلہ سے کی گئی اپنی شکایت میں تلنگانہ کے کالیشورم پراجکٹ میں ہونے والی بدعنوانیوں کی نشاندہی کی تھی اور اس شکایت پر فوری کاروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے گذشتہ یوم رکن پارلیمنٹ تلنگانہ راشٹر سمیتی کے 96کروڑ کے اثاثہ جات کی قرقی سال 2019میں درج کئے گئے مقدمہ میں عمل میں لائی گئی ہے اور ذرائع کا کہناہے کہ ریاستی حکومت کے سرکردہ قائدین کو گذشتہ چند ماہ کے دوران انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی نوٹس موصول ہوچکی ہیں اور وہ ان نوٹسوں کا جواب دینے کے لئے ملک کے سرکردہ وکلاء سے مشاورت میں مصروف ہیں۔ ذرائع کے مطابق مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے ریاست تلنگانہ میں برسراقتدار جماعت کے قائدین اور حکومت کی بدعنوانیوں کی شکایات کا جائزہ لیا جانے لگا ہے اور اگر ان شکایات میں کوئی شواہد دستیاب ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں ان ایجنسیوںکی جانب سے بڑے پیمانے پر کاروائی کی جاسکتی ہے۔بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت بالخصوص چیف منسٹر تلنگانہ کی جانب سے مرکزی حکومت کو کئے جانے والے چیالنج کے بعدجانچ اور تحقیقات میں تیزی لائے جانے کے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں ۔کانگریس رکن پارلیمنٹ مسٹر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے وزیر اعظم سے ملاقات کرتے ہوئے ریاستی حکومت کے خلاف جو شکایت کی تھی اس میں شواہد بھی حوالہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور صدر پردیش کانگریس اے ریونت ریڈی نے بھی سی بی آئی کو حوالہ کردہ شکایت میں دستاویزی ثبوت و شواہد پیش کئے ہیں۔م