روسٹر سسٹم میں کوئی تبدیلی نہیں، حکومت کی وضاحت
حیدرآباد۔/20 نومبر، ( سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے آج وضاحت کی گئی کہ ریاست میں مسلم بی سی ای زمرہ کے تحفظات کو 4 فیصد سے گھٹاکر 3 فیصد کرنے سے متعلق سوشیل میڈیا میں پھیلائی جارہی اطلاعات میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ مسلمانوں کو بی سی ای زمرہ کے تحت تعلیمی اداروں اور روزگار میں 4 فیصد تحفظات کو گھٹا کر 3 فیصد کرنے سے متعلق خبروں اور سوشیل میڈیا میں پوسٹس کو بے بنیاد، گمراہ کن اور جھوٹ پر مبنی قرار دیا گیا۔ حکومت نے وضاحت کی کہ تلنگانہ اسٹیٹ اینڈ سب آرڈینیٹ سرویس رولس 1996 میں حال میں ترمیم کی گئی جس میں درج فہرست قبائیل کے تحفظات کو 6 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کیا گیا ہے۔ ان قواعد میں بی سی ای زمرہ یعنی مسلمانوں کو تحفظات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کے بی سی ای تحفظات 4 فیصد برقرارہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ بی سی ای زمرہ کے تحت 100 نکاتی روسٹر میں 19، 44، 69 اور 94 ویں مقام پر ذکر کیا گیا ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ سوشیل میڈیا پر وائرل کی جارہی ان گمراہ کن خبروں پر بھروسہ نہ کریں اور ایسی غلط افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ روسٹر کی تفصیلات میں مسلم تحفظات کے صرف 3 فیصد تذکرہ پر سماجی اور سیاسی حلقوں میں ناراضگی جتائی گئی جس کے بعد آج حکومت نے وضاحتی بیان جاری کرکے روسٹر سسٹم میں ان چار مقامات کا حوالہ دیا جہاں مسلم تحفظات کا ذکر شامل ہے۔ر