تلنگانہ میں SIR ‘ مسلم ووٹرس الرٹ ‘ناموں کے اخراج کے خدشات پر فیلڈ لیول پر خصوصی حکمت عملی

   

30 اسمبلی حلقوں میں مسلمانوں کا فیصلہ کن موقف ، مساجد اور بستیوں میں ووٹر ہیلپ ڈیسک کا قیام

محمد نعیم وجاہت
حیدرآباد : /26 جولائی ۔ تلنگانہ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ووٹر لسٹوں کی جامع نظرثانی (SIR) عمل کے دوران ریاست کی سب سے بڑی اقلیتی برادری چوکنا ہوگئی ہے ۔ ریاست کے سیاست میں فیصلہ کن موقف رکھنے والے مسلم ووٹرس اپنے حق رائے دہی کے تحفظ اور ووٹر لسٹوں سے کسی بھی غلط تعصبانہ بنیاد پر ووٹوں کے حذف ہونے کے خدشات کے پیش نظر خصوصی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے میدان میں اترچکے ہیں ۔ حیدرآباد کے پرانے شہر کے بشمول ریاست کے دیگر تمام اضلاع اور دیہی علاقوں میں مسلم سیاسی قائدین ، رضاکارانہ تنظیمیں ، مساجد کمیٹیوں اور مقامی مسلم نوجوانوں کی سرپرستی میں (SIR) اندراج کا کام منظم انداز میں جاری رکھا ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق تلنگانہ میں مسلمانوں کی جملہ آبادی تقریباً 45 لاکھ (جملہ آبادی کا 12.75 فیصد) ہے جبکہ مسلم ووٹرس کی تعداد 30 تا 32 لاکھ بتائی جاتی ہے ۔ حیدرآباد کے 7 اسمبلی حلقوں کے علاوہ ریاست کے دیگر 20 سے 25 ایسے ترجیحی اسمبلی حلقے ہیں جہاں مسلم ووٹ بنک 12 فیصد سے 35 فیصد تک ہیں اور سخت مقابلے کی صورت میں یہ ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوں گے ۔ ضلع حیدرآباد میں اسمبلی حلقہ جات چارمینار ، چندرائن گٹہ ، بہادر پورہ ، ملک پیٹ ، کاروان ، یاقوت پورہ اور نامپلی میں مسلم ووٹرس کا تناسب 43.45 فیصد ہے ۔ ضلع نظام آباد کے اسمبلی حلقہ جات نظام آباد اربن اور بودھن میں مسلم ووٹرس کا تناسب 18.52 فیصد ہے ۔ ضلع سنگاریڈی کے اسمبلی حلقہ جات سنگاریڈی اور ظہیرآباد میں مسلم ووٹرس کا تناسب 16.15 فیصد ہے ۔ ضلع نرمل کے اسمبلی حلقہ جات بھینسہ اور نرمل میں مسلم ووٹرس کا تناسب 14.04 فیصد ہے ۔ ضلع رنگاریڈی کے اسمبلی حلقہ جات راجندر نگر ، مہیشورم ، شیرلنگم پلی میں مسلم ووٹرس کا تناسب 13.62 فیصد ہے ۔ ضلع وقار آباد کے اسمبلی حلقہ جات پرگی اور تانڈور میں مسلم ووٹرس کا تناسب 12.94 فیصد ہے ۔ ضلع عادل آباد کے اسمبلی حلقہ عادل آبا دمیں مسلم ووٹرس کا تناسب 12.58 فیصد ہے ۔ ورنگل ایسٹ اسمبلی حلقہ میں مسلم ووٹرس کا تناسب 22 فیصد ، کریم نگر و جگتیال اسمبلی حلقوں میں 20 فیصد ، کھمم اربن اسمبلی حلقہ میں 15 فیصد، نلگنڈہ اور مریال گوڑہ میں 12 تا 15 فیصد ہے ۔ سیاسی حریفوں یا انتخابی عملے کی لاپرواہی سے ووٹر لسٹ سے ووٹ خارج نہ ہوجائے ان خدشات کے پیش نظر مسلم کمیونٹی نے جدید تیکنیک اور مقامی نیک ورکس کو مربوط کیا ہے ۔ ریاست کے مختلف مقامات پر ہر جمعہ کو خطبہ میں ووٹر لسٹوں میں ناموں کی موجودگی “SIR” فارم بھرنے کیلئے شعور بیدار کیا جارہا ہے ۔ کئی مساجد کے باہر ووٹر ہیلپ ڈیسک قائم کئے گئے جہاں آن لائن اور آف لائن فارم بھرنے کی مفت سہولت فراہم کی جارہی ہے ۔ اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ مقامی مسلمان بالخصوص نوجوان اپنے ووٹر حقوق کے تحفظ کیلئے خود میدان میں اترگئے ہیں اور مسلمانوں کی بھرپور رہنمائی کررہے ہیں ۔ 2