تلنگانہ وقف بورڈ کی کارکردگی لیت و لعل کا شکار

   

حکومت کا کوئی بھی عہدیدار سی ای او کا عہدہ حاصل کرنے تیار نہیں ، موجودہ سی ای او کی طویل رخصت سے مسائل
حیدرآباد۔12۔اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی کارکردگی لیت و لعل کا شکار ہوچکی ہے اور حکومت تلنگانہ کا کوئی عہدیدار چیف ایکزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ کا جائزہ لینے کے لئے آمادہ نہیں ہے اور موجودہ چیف ایکزیکیٹیو آفیسر جناب شاہنواز قاسم آئی پی ایس کے طویل رخصت پر ہونے کے سبب کارکردگی بری طرح سے متاثر ہے۔وقف ایکٹ کے مطابق اندرون دو ماہ ریاستی وقف بورڈ کا اجلاس لازمی طور پر منعقد کیا جانا چاہئے لیکن گذشتہ 6ماہ کے دوران وقف بورڈ کا محض ایک اجلاس منعقد ہوا ہے اور کئی مسائل حل طلب ہونے کے علاوہ احکامات کی اجرائی عمل میں لائی جانی ہے لیکن بورڈ کے ارکان کے مسلسل اصرار اور صدرنشین کی ہدایت کے باوجودعہدیدار جائزہ اجلاس منعقد کرنے میں پس و پیش سے کام لے رہے ہیں کیونکہ یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اب جو اجلاس منعقد ہوگا اس اجلاس میںوقف بورڈ کی جانب سے موجودہ سی ای او کو برخواست کرنے اور ان کی خدمات کو واپس کرتے ہوئے مستقل سی ای او کے تقرر کے لئے قرارداد منظور کی جائے گی۔ سی ای او کے عہدہ پر کوئی مستقل عہدیدار نہ ہونے کے باعث وقف بورڈ کے ملازمین کی من مانی کا سلسلہ جاری ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان اور بورڈ کے ارکان نے جزوقتی سی ای او کی کارکردگی پر اب برسر عام سوالات اٹھانے شروع کردیئے ہیں اور ان پر الزام عائد کیا جا رہاہے وہ اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے بورڈ کے فیصلوں کونظرانداز کر رہے ہیں۔ جناب شاہنواز قاسم کی خدمات کو ان کے محکمہ کے حوالہ کرنے کے سلسلہ میںبورڈ کے ارکان کی جانب سے قطعی فیصلہ کیا جاچکا تھا اور سی ای او کو وقف بورڈ کا اجلاس طلب کرنے کی ہدایت بھی دی جاچکی تھی لیکن ناسازیٔ صحت کی بناء پر انہوں نے طویل رخصت حاصل کرلی جو کہ 15اکٹوبر کو ختم ہونے جار ہی ہے اس کے باوجود وقف بورڈ کے اجلاس کے انعقاد کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوپائی ہے ۔ذرائع کے مطابق وقف بورڈ کی جانب سے فوری طور پر بورڈ کے عہدیداروں میں سے کسی کو انچارج سی ای او بناتے ہوئے کارکردگی کو بہتر بنانے کے اقدامات پر غورکیا جارہا ہے ۔وقف بورڈ کے ارکان کا احساس ہے کہ عہدیداروں کی جانب سے بورڈ کی کارکردگی میں کوبہتر بنانے کے بجائے اسے متاثر کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے جو کہ تحفظ اوقاف میں رکاوٹ اور مقدمات میں ناکامی کا سبب بھی بن رہا ہے۔ محمد مسیح اللہ خان سے اس سلسلہ میں استفسار پر انہوں نے کہا کہ وہ دفتری اوقات کار میں عوامی مسائل کے حل کے لئے دستیاب ہیں اور ممکنہ حد تک وہ بورڈ کی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں اقدامات کر رہے ہیں لیکن وقف بورڈ کے دفتر میں سی ای او کی عدم موجودگی کے سبب دفتری امور کی انجام دہی متاثر ہورہی ہے۔وقف بورڈ کے اجلاس کی طلبی کے سلسلہ میں دریافت کئے جانے پر انہوں نے بتایا کہ وقف ایکٹ کے مطابق بورڈ کا اجلاس طلب کرنے کے سلسلہ میں متعدد مرتبہ توجہ دہانی کروائی جاچکی ہے لیکن موجودہ چیف ایکزیکیٹیو آفیسر جناب شاہنواز قاسم کی حد درجہ مصروفیات اور انہیں ایک اداروں کی ذمہ داری کے سبب وہ اجلاس کے انعقاد سے قاصر نظر آرہے ہیں کیونکہ انہیں صرف وقف بورڈ ہی نہیں بلکہ ڈائریکٹر محکمہ اقلیتی بہبود‘ ڈائریکٹر سیکریٹری تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی کے علاوہ دیگر ذمہ داریاں بھی ہیں جس کی وجہ سے وہ زیادہ تر مصروف رہتے ہیں۔وقف ایکٹ کے مطابق وقف بورڈ کی موجودگی کی صورت میں 2 ماہ میں ایک اجلاس منعقد کیا جانا چاہئے تاکہ بورڈ کی کارکردگی اور دیگر امور بالخصوص تولیت اور کمیٹیوں کی منظوری کے اقدامات کئے جائیں۔م