حیدرآباد۔13۔مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کے پرچہ افشاء کیس میں ملوث 9 ملزمین بشمول ایک سیکشن آفیسر اور پولیس کانسٹبل کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ساؤتھ ویسٹ اور کمشنر ٹاسک فورس کی مشترکہ کارروائی میں اس ریاکٹ میں ملوث افراد کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے قبضہ سے الیکٹرانک اشیاء برآمد کرلی گئیں۔ ڈپٹی کمشنر ٹاسک فورس پی رادھا کشن راؤ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پبلک سرویس کمیشن کے پرچہ افشاء کا اصلی سرغنہ پی پراوین کمار ہے جو کمیشن میں سیکشن آفیسر کی حیثیت سے سال 2017 ء سے ملازمت کر رہا ہے ، وہ اپنے ایک ساتھی اے راج شیکھر ریڈی جو نیٹ ورکنگ کا ماہر بتایا جاتا ہے اور آؤٹ سورسنگ پر ملازمت کر رہا ہے، نے یہ کارستانی انجام دی ۔ انہوں نے کہا کہ راج شیکھر ریڈی کو پبلک سرویس کمیشن کے کمپیوٹرس اور اس کے آئی پی ایڈریس سے کافی وقفیت تھی جس کا فائدہ اٹھایا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ پراوین کمار اور راج شیکھر ریڈی نے پبلک سرویس کمیشن کے ایک خفیہ سیکشن میں داخل ہوکر اسسٹنٹ انجنیئر ٹاون پلاننگ اور دیگر امتحانات کے پرچہ سوالات کا تمام ڈیٹا حاصل کرلیا اور اسے پین ڈرائیو میں منتقل کرتے ہوئے اس کیس کے دیگر ملزمین رینوکا اور ڈھاکیا نائک کے حوالے کیا۔ پرچہ سوالات افشاء کرنے کیلئے پراوین کمار نے راجیشور نائک ، ڈھاکیا نائک کی مدد سے میڑچل پولیس اسٹیشن میں تعینات پولیس کانسٹبل کے سرینواس کو بھی اس ریاکٹ میں ملوث کیا۔ اس تمام معاملہ میں کیس کے ملزم راجیشور نائک نے جملہ 13.5 لاکھ نقد رقم حاصل کی۔ پرچہ سوالات افشاء ہونے کے پیش نظر امتحانات کو پبلک سرویس کمیشن نے منسوخ کردیا تھا اور بیگم بازار پولیس نے اس سلسلہ میں دھوکہ دہی اور مجرمانہ سازش کے تحت ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا تھا ۔ ٹاسک فورس نے اس کیس میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے گرفتار ملزمین کے قبضہ سے پین ڈرائیوز، لیاپ ٹاپس اور کمپیوٹرس بھی برآمد کرلئے ۔ گرفتار ملزمین کو متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ب