تلنگانہ کابینہ میں توسیع پر تعطل برقرار، دعویدار پُرامید

   

کرناٹک میں توسیع کے بعد دوبارہ سرگرمیاں تیز، 2 نشستوں کیلئے کئی دعویدار، ناراضگی سے بچنے فیصلہ میں تاخیر

حیدرآباد 4 اگست (سیاست نیوز) کرناٹک میں ڈی کے شیوکمار وزارت میں توسیع کے بعد تلنگانہ وزارت میں توسیع کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں۔ پردیش کانگریس کمیٹی کی سطح پر اگرچہ اِس بارے میں وزارت کے دعویداروں کو کوئی واضح تیقن نہیں دیا گیا تاہم چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ میں توسیع یا وزراء کی تبدیلی کا معاملہ ہائی کمان کے زیرغور ہے۔ ہائی کمان نے چیف منسٹر ریونت ریڈی اور دیگر قائدین سے حالیہ دورہ دہلی کے موقع پر کابینہ میں توسیع کے مسئلہ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ تاہم توسیع کی صورت میں ناراض سرگرمیوں کے اندیشہ کو دیکھتے ہوئے ہائی کمان نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کو بھی توسیع کے معاملہ میں کوئی عجلت نہیں ہے۔ کرناٹک میں ڈی کے شیوکمار کے چیف منسٹر کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد محض 2 مراحل میں مکمل کابینہ تشکیل دے دی گئی اور 34 وزراء نے حلف لے لیا ہے۔ تلنگانہ اسمبلی کی عددی طاقت کے اعتبار سے 18 وزراء کی گنجائش ہے اور چیف منسٹر کے بشمول 16 وزراء موجود ہیں۔ حکومت کی تشکیل کے بعد سے مکمل کابینہ تشکیل نہیں دی گئی جس کے نتیجہ میں وزارت کے خواہشمندوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ بعض ایسے دعویدار ہیں جن سے پارٹی ہائی کمان نے وزارت کا وعدہ کیا تھا لیکن آج تک تکمیل نہیں ہوسکی۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کا ماننا ہے کہ 2 مخلوعہ وزارتوں پر بھرتی کے علاوہ کارکردگی کی بنیاد پر بعض وزراء کی علیحدگی ممکن ہے پارٹی ہائی کمان نے وزراء کی کارکردگی کے بارے میں رپورٹ طلب کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 4 وزراء کی کارکردگی توقع کے مطابق نہیں ہے اور اُن کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندے بھی مطمئن نہیں ہیں۔ اضلاع رنگاریڈی، نلگنڈہ اور نظام آباد سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی وزارت میں شمولیت کے لئے سرگرمی سے پیروی کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ اور اسپیکر اسمبلی جی پرساد کمار کو کابینہ میں شامل کرتے ہوئے اُن کی جگہ نئے چہروں کو پردیش کانگریس کی صدارت اور اسپیکر کے عہدہ کی ذمہ داری دی جائے گی۔ پرساد کمار کی کابینہ میں شمولیت کی صورت میں دلت طبقہ سے تعلق رکھنے والے کسی اور رکن اسمبلی کا انتخاب کیا جائے گا۔ اِسی دوران اے آئی سی سی انچارج میناکشی نٹراجن نے حکومت کی کارکردگی اور وزراء کے رول پر ہائی کمان کو رپورٹ پیش کردی ہے۔ لیکن ہائی کمان کے لئے کابینہ میں توسیع یا تبدیلی کے بارے میں فیصلہ کرنا آسان نہیں ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ 2 نشستوں کے لئے 10 سے زائد دعویدار ہیں اور شمولیت یا تبدیلی کی صورت میں ریاست میں پارٹی کی سطح پر ناراض سرگرمیاں شدت اختیار کرسکتی ہیں جس کا راست طور پر اپوزیشن کو فائدہ ہوگا۔V/k/i/1