تلنگانہ کانگریس سوشیل میڈیا کا کنٹرول نئی دہلی حاصل کرلے گا

   

اپوزیشن کا موثر جواب دینے میں ناکامی ، چیف منسٹر کی شکایت پر سپریا شرنیٹ سرگرم
حیدرآباد ۔یکم۔نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں کانگریس حکومت کے 11 ماہ مکمل ہوچکے ہیں اور 7 ڈسمبر کو حکومت کا ایک سال مکمل ہوجائے گا۔ حکومت کی تشکیل کے بعد سے انتخابی وعدوں کی تکمیل کے لئے ریونت ریڈی حکومت نے قدم اٹھائے لیکن اپوزیشن کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے ۔ عوامی مسائل پر بی آر ایس اور بی جے پی سوشیل میڈیا کے بھرپور استعمال کے ذریعہ حکومت کو دفاعی موقف میں کرنے کی مساعی کر رہے ہیں۔ ایسے میں کانگریس پارٹی نے پردیش کانگریس کے سوشیل میڈیا سیل کو متحرک کرنے کی کوشش کی تاکہ اپوزیشن کے پروپگنڈہ کا مقابلہ کیا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی پارٹی کے سوشیل میڈیا سیل کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں اور انہوں نے آل انڈیا کانگریس کمیٹی سے اس بات کی شکایت کی ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران پارٹی کے سوشیل میڈیا سیل کی غیر اطمینان بخش کارکردگی پر اے آئی سی سی نے مداخلت کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انڈیا کانگریس کمیٹی تلنگانہ کے سوشیل میڈیا کا کنٹرول حاصل کرلے گی اور اے آئی سی سی کے ماہرین کے ذریعہ تلنگانہ کا سوشیل میڈیا سیل چلایا جائے گا ۔ اے آئی سی سی کے سوشیل میڈیا کی صدرنشین سپریا شرنیٹ نے حال ہی میں حیدرآباد کا دورہ کرتے ہوئے سوشیل میڈیا سیل کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اے آئی سی سی کی جانب سے ریاستی سیل کی ذمہ داری حاصل کرنے کی تجویز پیش کی ۔ چیف منسٹر اور پردیش کانگریس کمیٹی دونوں کے سوشیل میڈیا اکاؤنٹس کو نئی دہلی سے چلایا جائے گا تاکہ اپوزیشن کے الزامات اور مہم کا موثر جواب دیا جاسکے۔ نئی دہلی کے ایک نامور ادارہ کی خدمات حاصل کی جارہی ہے تاکہ تلنگانہ سوشیل میڈیا امور کو چلایا جاسکے۔ تلنگانہ حکومت اور پارٹی کی جانب سے نئی دہلی ٹیم کو فیڈ بیاک دیا جائے گا جس کے ذریعہ اپوزیشن کی مہم کا جواب دیا جائے گا ۔ تلنگانہ میں گزشتہ 10 ماہ کے دوران پارٹی کا سوشیل میڈیا سیل موثر کارکردگی کے مظاہرہ میں ناکام رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انتخابی حکمت عملی کے ماہر سنیل کنگولو نے بھی تلنگانہ سوشیل میڈیا ٹیم کو تبدیل کرنے کی سفارش کی ہے۔ 1