منوگوڑو میں یکم ستمبر سے مہم کا آغاز، ٹی آر ایس اور بی جے پی پر ڈرامہ بازی کا الزام
حیدرآباد۔/30 اگسٹ، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس پارٹی کی توسیع کیلئے تلنگانہ کی عوامی رقومات کو تقسیم کیا جارہا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس دیگر ریاستوں میں اپنے یونٹ قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اسی مقصد کے تحت دہلی، پنجاب اور بہار میں تلنگانہ عوام کی رقومات کو تقسیم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منوگوڑو ضمنی چناؤ کیلئے یکم ستمبر سے انتخابی مہم کا عملاً آغاز ہوگا اور گھر گھر پہنچ کر ٹی آر ایس اور بی جے پی حکومت کی ناکامیوں سے عوام کو واقف کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر منڈل اور گاؤں میں پارٹی قائدین کو مہم کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ انچارج قائدین کے ساتھ زوم کانفرنسنگ کے ذریعہ منوگوڑو کی مہم کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور ٹی آر ایس حقیقی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے ڈرامہ بازی کررہی ہیں۔ مہنگائی میں اضافہ اور بیروزگاری جیسے مسائل کو فراموش کردیا گیا۔ ریونت ریڈی نے کانگریس قیادت کے خلاف غلام نبی آزاد، کپل سبل اور آنند شرما کے بیانات کی مذمت کی اور کہا کہ ایسے وقت جبکہ پارٹی بی جے پی سے مقابلہ کی تیاری کررہی ہے غلام نبی آزاد نے استعفی دے کر مزید کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ منوگوڑو میں ٹی آر ایس اور بی جے پی نے باقاعدہ کمیٹیاں تشکیل دی ہیں جس کے ذریعہ دیگر پارٹی کے قائدین کو خریدنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ یکم ستمبر سے منڈل کے انچارج گاؤں گاؤں میں انتخابی مہم کی نگرانی کرتے ہوئے ہر گھر میں ٹی آر ایس اور بی جے پی کے خلاف چارج شیٹ پر مشتمل پمفلٹ حوالے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اضلاع میں کلکٹریٹ کے افتتاح کے موقع پر کانگریس کے عوامی نمائندوں کو نظرانداز کردیا گیا۔ پدا پلی میں کانگریس کے رکن اسمبلی سریدھر بابو اور سابق رکن پارلیمنٹ پونم پربھاکر کو گھر پر محروس رکھا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں اسپیکر اسمبلی کو کارروائی کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے اضلاع میں پارٹی دفاتر کے افتتاح کی تقاریب کو سرکاری تقاریب میں تبدیل کردیا ہے۔ بی جے پی تلنگانہ میں قدم جمانے کیلئے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنا چاہتی ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ منوگوڑو کے عوام بی جے پی اور ٹی آر ایس کو سبق سکھائیں گے۔ ر