آئندہ تین ماہ میں 30 ہزار کروڑ روپئے مکمل قرض ملنا بھی غیریقینی ؟
حیدرآباد۔ 22 جنوری (سیاست نیوز) گرانٹس کی اجرائی اور سنٹرل اسپانسرڈ اسکیموں میں تلنگانہ کو نظرانداز کردینے والی مرکزی حکومت اب حصول قرض کیلئے تلنگانہ کی کوششوں پر بھی پانی پھیر رہی ہے۔ تلنگانہ حکومت میں آئندہ تین ماہ جنوری تا مارچ میں 30 ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرنے کا آر بی آئی کو انڈینٹس پیش کیا ہے، لیکن بھاری قرض حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ ابھی تک اس میں 4,500 کروڑ روپئے کی کٹوتی کردی گئی ہے۔ مزید کٹوتی کے اندیشے پائے جاتے ہیں۔ 28 جنوری کو تلنگانہ حکومت 2,500 کروڑ روپئے کے قرض حاصل کرنا چاہتی ہے، تاہم اس کی اجرائی کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ اگر 2,500 کروڑ روپئے کا قرض نہیں ملتا ہے تو اس مہینے میں 7,000 کروڑ روپئے کے قرض کٹوتی ہوجائے گی۔ موجودہ مالیاتی سال 2024-25ء میں 62,012 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرنے کی تجویز تیار کی ہے۔ آر بی آئی کے نیلامی میں (او ایم بی) اس کے تحت 57,112 کروڑ روپئے مرکز سے 3,900 کروڑ روپئے دیگر اداروں سے 1000 کروڑ روپئے قرض حاصل کرنے کی بجٹ میں تجویز پیش کی گئی تھی، لیکن مرکزی حکومت نے 49,255.41 کروڑ روپئے عام مارکیٹ سے قرض حاصل کرنے کی منظوری دی ہے جس میں نومبر تک ریاستی حکومت نے 37,850 کروڑ روپئے (76.84%) کا قرض حاصل کیا ہے۔ ڈسمبر میں حاصل کردہ 3,909 کروڑ روپئے کا قرض شمار کیا جائے تو ابھی تک 41,759 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے مرکزی حکومت کے منظور کردہ آئندہ تین مہینوں کے دوران ریاستی حکومت کو صرف 7,500 کروڑ روپئے تک قرض لینے کی گنجائش ہے۔ تاہم ریاستی حکومت نے مارچ تک 30,000 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرنے کیلئے آر بی آئی سے منظوری طلب کی ہے۔ 2