خواندگی اور سیاحتی سروے کے نام کارکنوں کی آمد ، عوام کی ناراضگی و بے چینی
حیدرآباد۔26 فروری(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں شائد سرکاری اداروں اور محکمہ جات کو سروے کروانے کا شوق چرایا ہے کیونکہ ہر دن کسی نہ کسی طرح کے سروے کی شکایات موصول ہورہی ہیں اور ملک کے موجودہ حالات میں اس طرح کے سروے کے اقدامات سے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ ملک بھر میں این پی آر و این آرسی کے سروے کے سلسلہ میں عوام میں پائی جانے والی سراسمیگی کو دور کرنے کے بجائے ریاست تلنگانہ میں مختلف محکمہ جات کی جانب سے سروے کے نام پر عوام کو ہراساں کیا جا رہا ہے ۔ گذشتہ یوم مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کروائے جانے والے خواندگی کے سروے کے سلسلہ میں پہنچنے والے سروے کنندگان کو بیگم پیٹ علاقہ سے واپس کیا گیا تھا اور آج قدیم ملک پیٹ کے علاقہ میں ضلع کلکٹر کی جانب سے کروائے جانے والے سروے کو عوام نے روک دیا۔بتایاجاتا ہے کہ شہر حیدرآباد میں سیاحتی سروے کا عمل جاری ہے اور اس سلسلہ میں ضلع کلکٹر کی نگرانی میں سروے کیا جا رہاہے لیکن اس سلسلہ میں کوئی اعلامیہ یا تشہیر نہیں کی گئی لیکن آج جب اس سلسلہ میں سروے کنندگان ملک پیٹ کے علاقہ میں پہنچے توانہیں عوامی برہمی کا سامنا کرنا پڑا جس کے سبب وہ سروے کنندگان واپس روانہ ہوگئے ۔بتایا جاتا ہے کہ جب سروے کنندگان نے بتایا کہ وہ اندرون ملک سیاحت اور اس کی تفصیلات کے لئے سروے کر رہے ہیں جس پرعوام نے جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے انہیں واپس چلے جانے کے لئے کہا اور واپس جانے کے لئے مجبور کردیا۔
عوام کے درمیان یہ احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اقساط میں سروے کرتے ہوئے این پی آر کی تفصیلات اکٹھا کی جا رہی ہیں کیونکہ ریاست تلنگانہ میں بھی این پی آر کے عمل کی شدت سے مخالفت کی جا رہی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا جا رہاہے کہ وہ این پی آر پر عمل آوری نہ کرنے کا اعلان کریں۔عوام کا کہناہے کہ عوامی احتجاج کو دیکھتے ہوئے حکومت خاندانی بہبود‘ خواندگی کے سروے کے علاوہ سیاحتی سروے کے نام پر شہریوں کی تفصیلات اکٹھا کر رہی ہے اور بعد ازاں ان تمام تفیصلات کو یکجا کرتے ہوئے این پی آر کے ڈاٹا میں شامل کرلیا جائے گا۔سروے کنندگان نے بتایا کہ وہ اس سروے کے دوران جو تفصیلات حاصل کر رہے ہیں ان میںگھر میں موجود ارکان خاندان کی تفصیلات اور ان کے اندرون ملک سفر ‘ سیاحت یا تفریح کے لئے شہر کے باہر جانے اور اس پر خرچ کی جانے والی رقومات کی تفصیلات ہیں۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کروائے جانے والے سروے کو جی ایچ ایم سی نے خواندگی کے سروے کا نام دیا ہے اور اس سروے کے دوران گھر میں موجود افراد کی تفصیلات اور ان کی تعلیم کے سلسلہ میں معلومات حاصل کی جار ہی ہیں۔اسی طرح اضلاع سے موصول ہونے والی شکایات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاست تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں خاندانی بہبود سروے کے نام پر گھر میں موجود افراد اور ان کی مصروفیات کے علاوہ دیگر تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔اسی لئے عوام کی جانب سے سروے میں حصہ نہیں لیا جا رہا ہے۔