تلنگانہ ہائی کورٹ میں آل انڈیا سرویس عہدیداروں کی درخواست مسترد

   

پہلے متعلقہ ریاست رپورٹ کرنے کی ہدایت، مرکزکے احکامات پر حکم التواء سے انکار، عوام کو مشکلات میں نہ ڈالنے کا مشورہ

حیدرآباد۔/16 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ میں آل انڈیا سرویس عہدیداروں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ہائی کورٹ نے الاٹ کردہ ریاست کو رپورٹ کرنے سے متعلق مرکزی حکومت کے فیصلہ پر حکم التواء سے انکار کردیا۔ جسٹس ابھینند کمار شاولی کے اجلاس پر آل انڈیا سرویس عہدیداروں کی جانب سے لنچ موشن پٹیشن داخل کی گئی جس میں مرکزی وزارت پرسونل اینڈ ٹریننگ کی جانب سے 16 اکٹوبر کو الاٹ کردہ ریاست میں رپورٹ کرنے سے متعلق احکامات پر حکم التواء کی درخواست کی گئی۔ عدالت نے واضح کیا کہ آل انڈیا سرویس عہدیداروں کو پہلے اپنی الاٹ کردہ ریاست رپورٹ کرتے ہوئے خدمات جوائن کرنی چاہیئے۔ جسٹس ابھینند کمار شاولی نے ریمارک کیا کہ اگر اس طرح کے معاملات میں حکم التواء جاری کیا جاتا رہا تو پھر یہ معاملہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ جج نے کہا کہ ذمہ دار عہدوں پر فائز عہدیداروں کو چاہیئے کہ وہ عوام کو مشکلات میں مبتلاء نہ کریں۔ مرکز نے عہدیداروں کے الاٹمنٹ کا فیصلہ کیا ہے لہذا وزارت پرسونل اینڈ ٹریننگ کو الاٹمنٹ پر ازسر نو غور کرنے کی ہدایت کس طرح دی جاسکتی ہے۔ آندھرا پردیش اور تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے آل انڈیا سرویس عہدیداروں وانی پرساد، وی کرونا، رونالڈ راس، کے امراپالی، سورجنا، شیو شنکر اور ہری کرن کی جانب سے لنچ موشن پٹیشن دائر کی گئی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ سنٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبیونل میں اس معاملہ پر آئندہ سماعت 4 نومبر کو مقرر ہے لہذا اس وقت تک ہائی کورٹ کو مرکزی حکومت کے احکامات پر حکم التواء جاری کرنا چاہیئے۔ عدالت نے اس اپیل کو نامنظور کردیا اور کہا کہ آل انڈیا سرویس عہدیداروں کے معاملہ میں اگر حکم التواء دیا جائے تو پھر یہ معاملہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ عہدیداروں کے وکیل نے کہا کہ مرکزی وزارت پرسونل اینڈ ٹریننگ سے درخواست کی گئی ہے کہ ریلیو ہونے کیلئے مزید 15 دن کی مہلت دی جائے۔ واضح رہے کہ سنٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبیونل نے کل آئی اے ایس عہدیدار کی درخواست کو نامنظور کرتے ہوئے جس ریاست کیلئے الاٹ کیا گیا وہاں رپورٹ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے بھی سنٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبیونل کے احکامات کو برقرار رکھتے ہوئے عہدیداروں سے کہاکہ وہ پہلے اپنی الاٹ کردہ ریاست کو رپورٹ کریں۔ عدالت نے کہا کہ وہ اس معاملہ میں مداخلت کیلئے تیار نہیں ہے۔ جسٹس ابھینند کمار شاولی نے سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کردیا ہے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں بعض آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیدار ایسے ہیں جو الاٹ کردہ ریاست کے برخلاف دوسری ریاست میں طویل عرصہ سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ٹریبیونل اور پھر ہائی کورٹ کے احکامات کے بعد ایسے عہدیداروں کیلئے الاٹ کردہ ریاست میں رپورٹ کرنا لازمی ہوچکا ہے۔ تلنگانہ میں آندھرا کیڈر کے برسرخدمت عہدیداروں میں کمشنر جی ایچ ایم سی کے امرا پالی، صدرنشین ٹرانسکو رونالڈ راس، پرنسپل سکریٹری ٹورازم وانی پرساد، سکریٹری بہبودی خواتین و اطفال وی کرونا، ایڈیشنل سکریٹری محکمہ جنگلات ایم پرشانتی کے علاوہ تین آئی پی ایس عہدیدار انجنی کمار، ابھیلاش بشٹ اور ابھیشک موہنتی شامل ہیں۔1