تمام سرکاری ہاسٹل ، اقامتی اسکولس ، کالجوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی

   

لاپرواہی برتنے والوں کیخلاف سخت کارروائی ، انتظامی سطح پر کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت کی گنجائش نہیں : کلکٹر
نظام آباد۔13 جون ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ضلع کلکٹر ایلا ترپاٹھی نے کہا ہے کہ ضلع کے تمام سرکاری ہاسٹلس، اقامتی اسکولوں، کالجوں اور گروکل تعلیمی اداروں میں طلبہ کو معیاری تعلیم کے ساتھ تمام بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں اور انتظامی سطح پر کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کی فلاح و بہبود، سلامتی اور تعلیمی ترقی کے معاملے میں لاپرواہی برتنے والے عہدیداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔نئے تعلیمی سال کے آغاز کے پیش نظر ہفتہ کے روز انٹیگریٹڈ ڈسٹرکٹ کلکٹریٹ آفس کامپلیکس کے کانفرنس ہال میں منعقدہ جائزہ اجلاس میں، ایڈیشنل کلکٹر وی بھوجنگ راؤ کے ہمراہ ایس سی، ایس ٹی، بی سی، اقلیتی بہبود اور محکمہ تعلیم کے تحت چلنے والے ہاسٹلس اور اقامتی تعلیمی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کلکٹر نے کہا کہ طلبہ کے لیے صحت مند، محفوظ اور خوشگوار تعلیمی ماحول کی فراہمی انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ بارش کے موسم کے پیش نظر تمام تعلیمی اداروں اور ہاسٹلس میں صفائی ستھرا کے خصوصی انتظامات کیے جائیں، مچھروں اور موسمی بیماریوں کی روک تھام کے لیے پیشگی اقدامات کیے جائیں اور طلبہ کے باقاعدہ طبی معائنے کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے سرکاری مینو کے مطابق معیاری اور غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرنے، فوڈ سیفٹی کمیٹیوں کو فعال بنانے اور ہر ادارے میں ڈائٹ مینو نمایاں طور پر آویزاں کرنے کی ہدایت دی۔ کلکٹر ایلا ترپاٹھی نے کہا کہ تمام تعلیمی اداروں میں صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ سرکاری ہاسٹلس اور رہائشی تعلیمی اداروں میں سو فیصد طلبہ کے داخلے کو یقینی بنایا جائے اور عہدیداران و عملہ وقت کی پابندی کے ساتھ ذمہ داری سے اپنے فرائض انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتے ہوئے ان کی سلامتی، صحت اور ہمہ جہتی ترقی کے لیے مخلصانہ خدمات انجام دی جائیں اور انگریزی زبان میں مہارت کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے۔ کلکٹر نے مزید اعلان کیا کہ طالبات کے ہاسٹلس اور اسکولوں میں بیت الخلاء یا دیگر بنیادی سہولتوں کی کمی کی تفصیلات 20 جون تک پیش کی جائیں تاکہ فوری طور پر فنڈز جاری کیے جا سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وہ خود اچانک معائنہ کریں گی اور اگر انتظامی خامیاں یا غفلت پائی گئی تو ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اجلاس میں مختلف فلاحی محکموں کے افسران، ہاسٹل ویلفیئر آفیسرس، محکمہ تعلیم کے عہدیداران، اقامتی تعلیمی اداروں کے پرنسپلز اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔