جسٹس بھیما پاکا کی برہمی ، کنٹونمنٹ بورڈ کے بقایہ جات جاری کرنے سے اتفاق، شخصی حاضری سے استثنیٰ ، 19 اگست کو آئندہ سماعت
رعیتو بندھو سے کروڑپتی کسان بھی استفادہ کر رہے ہیں، فلاحی اسکیمات صرف مستحق خاندانوں کے لئے ہونی چاہئے، جج کا تبصرہ
حیدرآباد۔7 ۔اگسٹ۔(سیاست نیوز) سینئر آئی اے ایس عہدیدار سندیپ کمارسلطانیہ توہین عدالت کے ایک مقدمہ کے سلسلہ میں آج ہائی کورٹ کے روبرو پیش ہوئے ۔ جسٹس ناگیش بھیما پاکا کے اجلاس پر مقدمہ کی سماعت ہوئی۔ جسٹس بھیما پاکا نے 10 جولائی کو سندیپ کمار سلطانیہ کی شخصی طور پر غیر حاضری پر قابل ضمانت وارنٹ جاری کیا تھا ۔ انہوں نے حیدرآباد پولیس کمشنر سجنار کو ہدایت دی تھی کہ سندیپ کمار سلطانیہ کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے اور عدالت میں حاضر ہونے کا تیقن دینے پر انہیں پانچ ہزار روپئے کی شخص ضمانت پر رہا کیا جائے ۔ مقدمہ کے سلسلہ میں پرنسپل سکریٹری فینانس سندیپ کمار سلطانیہ آج جب عدالت میں پیش ہوئے تو جسٹس بھیما پاکا نے سخت ریمارکس کئے ۔ انہوں نے کہا کہ عہدیداروں کو ہائی کورٹ طلب کرنا عدالت کے لئے بھی تکلیف کا باعث ۔ پرنسپل سکریٹری فینانس کے عہدہ پر سندیپ کمار سلطانیہ کے خلاف توہین عدالت کی کئی درخواستیں زیر التواء ہے ۔ اگر ان درخواستوں پر سزا دی جائے تو انہیں زندگی بھر جیل میں رہنا پڑے گا۔ جسٹس بھیما پاکا نے کہا کہ حکومت کی غلطیوں کے سبب عہدیداروں کو توہین عدالت کے مقدمات اور سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رعیتو بندھو اسکیم ایک اچھی اسکیم ہے لیکن کئی کروڑ پتی کسان بھی اسکیم سے فائد اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی فلاحی اسکیمات سے استفادہ کرنے والوں میں کئی اہلیت نہ رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ حکومت کی اسکیمات کے فوائد صرف اہل افراد کو پہنچنے چاہئے۔ سندیپ کمار سلطانیہ نے عدالت کو بتایا کہ کنٹونمنٹ بورڈ کو ابھی تک 25 کروڑ روپئے جاری کردیئے گئے اور باقی رقم اقساط میں جاری کی جائے گی۔ جسٹس بھیما پاکا نے آئندہ سماعت 19 اگست کو مقرر کی ہے۔ واضح رہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ کے بقایہ جات کی عدم اجرائی پر بورڈ کے رکن رام کرشنا نے آئی اے ایس عہدیدار کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے۔ توہین عدالت کے مقدمہ میں حلفنامہ داخل نہ کرنے پر انہیں گرفتار کر کے آج عدالت میں پیش کرنے کی پولیس کو ہدایت دی گئی تھی۔ 1/k