یہ دلاسہ ہے یا جھٹکہ…؟
واشنگٹن : امریکہ کے صدر بائیڈن نے یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی سے کہا ہے کہ “اندیشوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ جب تک یوکرین قائم ہے ہم اس کا ساتھ دینا جاری رکھیں گے”۔24 فروری سے جاری روس۔یوکرین جنگ کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے میں یوکرین کے صدر زلنسکی نے امریکہ کے صدر بائیڈن کے ساتھ وائٹ ہاوس میں دو طرفہ ملاقات کی اور بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس میں شرکت کی۔پریس کانفرنس سے خطاب میں بائیڈن نے کہا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے یوکرین کے حساس انفراسٹرکچر کو ہدف بنا کر جنگ کو مزید بھڑکا دیا ہے۔ جنگ شروع ہوئے 300 سے زائد دن گزر چکے ہیں اور اس عرصے میں یوکرین کے عوام نے روس اور دنیا کو دِکھا دیا ہے کہ انہیں اپنے ملک سے کس قدر محبت ہے اور اس کے دفاع کے لئے ان کا عزم کس قدر پختہ ہے۔جنگ کے دوران امریکہ کی یوکرین کو فراہم کردہ امداد کے مختصر ذکر کے بعد بائیڈن نے کہا ہے کہ ہمارا ملک یوکرین کی مدد کرنا جاری رکھے گا۔صدر زیلنسکی کی طرف رْخ کر کے انہوں نے کہا ہے کہ “جناب صدر صاحب آپ کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جب تک یوکرین کا وجود برقرار ہے ہم اس کا ساتھ دینا جاری رکھیں گے”۔زیلنسکی نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ “جنگ کے حالیہ 30 دنوں میں ہم نے امریکہ کے ساتھ باہمی تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔ ہم حقیقی معنوں میں ایک دوسرے کے اتحادی بن گئے ہیں”۔