جرمن ادارے اور شمالی کوریا کا ’خطرناک‘ سائنسی اشتراک

   

برلن ؍ پیانگ یانگ : اقوام متحدہ کی طرف سے شمالی کوریا کیساتھ سائنسی تعاون پر پابندی کے باوجود ایک جرمن ادارے نے یہ تعاون جاری رکھا۔ ماہرین کی رائے اس بارے میں منقسم ہیکہ آیا شمالی کوریا اس تحقیق کو فوجی مقاصد کیلئے استعمال کر سکتا ہے۔یہ ای میل صرف چند جملوں پر مشتمل تھی لیکن اسے انتہائی غیر متوقع مقام سے بھیجا گیا تھا: پیونگ یانگ۔ ڈی ڈبلیو کی درخواست کے جواب میں یہ پیغام ایک طبیعیات اور لیزر آپٹکس کے ماہر پروفیسر اِم سونگ جن کی طرف سے آیا تھا۔ یہ پروفیسر شمالی کوریا کے چند مراعات یافتہ افراد میں سے ایک ہیں۔ اس ملک میں کسی شہری کے پاس ای میل ایڈریس کا ہونا اور اسے بیرونی دنیا سے بات چیت کرنے کی اجازت بھی ہونا اس بات کی علامت ہے کہ شمالی کوریا کی حکومت اس شہری پر بھروسا کرتی ہے۔پروفیسر اِم نے تصدیق کی کہ 2008ء اور 2010ء کے درمیان وہ برلن میں میکس بورن انسٹی ٹیوٹ فار نان لائنر آپٹکس اینڈ شارٹ پلس سپیکٹروسکوپی (ایم بی آئی) میں وزیٹنگ سائنٹسٹ تھے۔ اور اس کے بعد؟ پروفیسر ام لکھتے ہیں، ”میرے پاس کم ال سنگ یونیورسٹی میں ایک کاروباری ای میل ایڈریس ہے۔ اس ای میل ایڈریس کا استعمال کرکے ہم نے بات چیت کی اور تعاون کے کاموں کو جاری رکھا۔‘‘ایم بی آئی کے ایک اپنے ایک ساتھی کے ساتھ ان کا آخری مشترکہ کام 2020ء کے موسم گرما میں ایک خصوصی میگزین کے شمارہ میں شائع ہوا۔ یہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے شمالی کوریا کے ساتھ تمام سائنسی تبادلے بند کرنے کی اپیل کیے جانے کے تقریباً چار سال بعد شائع ہوا تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل شمالی کوریا کو حساس معلومات تک رسائی حاصل کرنے سے روکنا چاہتی ہے تاکہ وہ اسے وسیع پیمانے پر تباہی کے جدید ہتھیاروں (ڈبلیوایم ڈی) کی تیاری میں استعمال نہ کرسکے۔