جمہوریت کو خطرہ جھوٹ اور تشدد سے ہے: صدر بائیڈن

   

سابق صدر ٹرمپ کے رویہ نے سیاسی تشدد کو ہوا دی۔ غیر امریکی طرز عمل پر خاموش رہنا بھی غلط ہوگا

واشنگٹن : امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے اپنے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ جمہوریت کو سابق صدر کی جانب سے الیکشن سے انکار پر مبنی جھوٹ اور اس تشدد سے خطرہ ہے جسے انہوں نے ہوا دی ہے۔صدر بائیڈن نے واشنگٹن ڈی سی میں گزشتہ شب ایک انتخابی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انتخاب چوری کئے جانے کے جھوٹے دعوؤں نے گزشتہ دو برسوں کے دوران سیاسی تشدد کو ایندھن فراہم کرنے اور ووٹروں کو خوف زدہ کرنے میں خطرناک حد تک اضافہ کیا ہے۔صدر بائیڈن نے یہ بیان ایسے موقع پر دیا ہے جب ملک میں وسط مدتی انتخابات میں چند روز ہی باتی رہ گئے ہیں۔ ان کے بقول امریکہ بھر میں امیدوار ، گورنر کے لئے، کانگریس کے لئے، اٹارنی جنرل کے لئے، سکریٹری آف اسٹیٹ کے لئے، ہر سطح کے عہدے کے لئے الیکشن لڑ رہے ہیں اور اگر وہ (ٹرمپ)ان انتخابات کے نتائج قبول نہیں کرتے ہیں تو یہ امریکہ میں بدنظمی اور افراتفری کا راستہ ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ یہ غیر قانونی ہے اور یہ غیر امریکی طرز عمل ہے۔صدر بائیڈن نے سیاسی تشدد اور امریکہ کے سخت مقابلے والے مگر پرامن اور درست انتخابات کی طویل روایت پر ابھرتے ہوئے خدشات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ ری پبلکنز , ووٹروں کے حقوق دبانے اور انتخابی نظام میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے جس میں وہ 2020 میں ناکام ہو گئے تھے۔صدر بائیڈن کی یہ تقریر اس واقعے کے کئی روز بعد سامنے آئی ہے جب سان فرانسسکو میں ایک شخص نے ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے گھر میں ان کے شوہر پال پیلوسی کو یرغمال بنانے کے بعد شدید زخمی کر دیا تھا۔پال پیلوسی پر حملے نے کانگریس اور انتخابی کارکنوں کو خوف زدہ کر دیا ہے۔بائیڈن کے بقول ملک میں سیاسی تشدد کو نظرانداز یا اس پر خاموش رہنے والوں کی تعداد میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور یہ خاموشی اس جرم میں شراکت ہے۔بائیڈن نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ 6 جنوری 2021 کو ہونے والی بغاوت اور ٹرمپ کی جانب سے 2020 کے انتخابات میں ووٹروں کی خواہش کو پلٹنے کی کوششوں کے بعد پہلے وفاقی انتخابات ہوں گے، ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ ان امیدواروں کو مسترد کر دیں جنہوں نے ووٹوں کے نتائج قبول کرنے سے انکار کیا تھا اور جب کہ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ان انتخابات کو دھوکہ دہی اور مداخلت سے بڑے پیمانے پر آزاد قرار دیا تھا۔بائیڈن نے ووٹروں سے کہا کہ وہ ان لمحات کے بارے میں سنجیدگی سے سوچیں جن سے ہم گزرے ہیں۔