جنتر منتر احتجاج کے بعد ہندوستان کی جمہوریت

   

رام پنیانی
جنتر منتر پر متعدد احتجاجی مظاہروں نے ہمارے ملک کی سیاست کو دہلاکر رکھ دیا۔ اگرچہ کاکروچ جنتا پارٹی نے احتجاجی مظاہروں کے اس سلسلہ کو شروع کیا لیکن حکومت کے جبر کے خلاف داخلی مزاحمت معاشرہ کے لئے بہت زیادہ تکلیف دہ رہی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جنتر منتر پر جو احتجاجی مظاہرے کئے گئے ان کا ظاہری موضوع تو پیپر لیک اور تعلیمی نظام میں پائی جانے والی بے قاعدگیاں اور بدعنوانی تھا لیکن سماجی و سیاسی نظام کی سنگین خامیاں وہ بنیادی وجوہات تھیں جن کی بنیاد پر یہ احتجاجی مظاہرے اس شکل میں سامنے آئے۔ اس پر طرفہ تماشہ یہ کہ طلبہ پر پیلٹ گن اور بندوقوں سے گولیاں چلانے کے احکامات نے اس معاملہ میں شدید نفرت اور اضطراب پیدا کردیا۔ معاملہ اس قدر ہولناک تھا کہ برسر اقتدار جماعت کے بڑے رہنما وزیراعظم اور وزیرداخلہ تک پارلیمنٹ اجلاس میں شرکت کی جرأت نہ کرسکے۔ انھوں نے اس فرضی پردے کے پیچھے پناہ لی کہ اپوزیشن ایوان میں بحث ہونے نہیں دے رہی ہے۔ احتجاجی مظاہروں کے تین بڑے محور تھے ایک تو کاکروچیس، دوسرے بائیں بازو جماعتوں کے ہمخیال نوجوان اور کانگریس باالفاظ دیگر کاکروچ جنتا پارٹی سے وابستہ طلبہ کمیونسٹ جماعتوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان اور کانگریس جس نے احتجاجی مظاہروں کی قیادت کی اور ان مظاہروں کے نتائج بھی کسی کرشمہ سے کم نہیں تھے کیوں کہ حکومت اور اقتدار پر بیٹھے لوگوں نے طلباء سے لے کر عام لوگوں میں بھی خوف و دہشت کا ماحول پیدا کیا اور اس پر منتخب آمریت کا لیبل چسپاں کردیا گیا۔ ہندوستان میں حقوق انسانی کی صورتحال کس قدر خراب ہے اس کا اندازہ طلبہ جہدکاروں عمر خالد اور شرجیل امام کے مقدمات سے لگایا جاسکتا ہے جو بناء کسی ٹرائل کے 6 سال سے زائد عرصہ سے جیلوں میں بند ہیں۔ اس کے علاوہ بھیما کورے گاؤں میں انسانی حقوق کے جہدکاروں اور دانشوروں کی گرفتاریوں اور ان کے خلاف مقدمات دوسری مثال کے طور پر لی جاسکتی ہے جس سے یہ بتایا جاسکتا ہے کہ حکمراں طبقہ کس طرح حقوق انسانی کے جہدکاروں کو برداشت نہیں کرپارہا ہے۔ بھیما کورے گاؤں کیس میں جن جہدکاروں کو گرفتار کیا گیا ان میں پادری اسٹین سوامی نمایاں ہیں ان کا ادارہ جاتی قتل ہمارے ملک میں پائے جانے والے سسٹم یا نظام کی ظالمانہ نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ حالیہ عرصہ کے دوران جنتر منتر و ملک کے دیگر مقامات پر احتجاجی مظاہروں کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خوف اور پابندی کی فضاء کچھ حد تک ختم ہوگئی ہے اور جنریشن الفاGen-Z کی جانب سے مختلف مقامات پر احتجاج پھیل گیا اور پھیل رہا ہے۔ اچھا یہ ہوا کہ شرکاء میں سے کسی نے ان سے یہ نہیں پوچھا کہ انھوں نے امبیڈکر کا پتلہ کیوں جلایا تھا۔ بہرحال بھاگوت کے پیروکار اسے جمہوریت کی ایک عظیم مثال کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ ان کے پیروکاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جہاں احتجاجی مظاہرے قابو سے باہر ہوجائیں وہاں انتشار عام اور بے چینی کی کیفیت یا صورتحال پیدا ہوجاتی ہے یعنی ایسے احتجاجی مظاہرے جو حکمراں نظام کی ترتیب و نظم کو پریشان کرسکتے ہیں۔ یہ بات بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ اب تک حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ہونے والے بڑے احتجاجی مظاہروں کو یا تو دبایا گیا ہے یا پھر آر ایس ایس کی سرپرستی میں انھیں نظرانداز کیا گیا ہے۔ کسانوں کی تین زرعی قوانین کے خلاف شروع کردہ تحریک کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا، ان کے خلاف انتہائی ظالمانہ اقدامات کئے گئے، نتیجہ میں کم از کم 600 کسان اپنی زندگیوں سے محروم ہوگئے۔ (میڈیا رپورٹس کے مطابق زرعی قوانین کے خلاف احتجاج میں تقریباً 720 کسانوں کو اپنی جانیں گنوانی پڑیں) یہاں تک کہ حکومت کو انتخابی وجوہات کی بنیاد پر تینوں زرعی قوانین واپس لینے پڑے ورنہ مودی حکومت ہمیشہ یہ دعویٰ کرتی آئی ہے کہ اس کی ڈکشنری میں قوانین یا بلز سے دستبرداری جیسا کوئی لفظ اور جملہ موجود نہیں ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف شاہین باغ احتجاج کا معاملہ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے کیوں کہ نہ صرف سی اے اے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو طاقت کے زور پر دبایا گیا بلکہ ان مظاہروں کو بدنام کرنے کے لئے اسے ناکام بنانے کے لئے (خاص طور پر شاہین باغ احتجاج کو ناکام بنانے کے لئے) فرقہ وارانہ تشدد برپا کروایا گیا۔ (ان فرقہ وارانہ فسادات کی سازشیوں کے طور پر عمر خالد اور شرجیل امام جیسے طلباء جہدکاروں کو نامزد کرکے ان کے خلاف ملک میں بغاوت کے الزامات عائد کئے گئے اور یو اے پی اے کے تحت الزام عائد کیا گیا۔ یہ طلباء جہدکار پچھلے 6 برسوں سے جیلوں میں بند ہیں) دوسری جانب جے این یو جیسی ملک کی باوقار یونیورسٹی میں بھی طلباء کے احتجاج کو طاقت کے زور پر دبایا گیا اور ان طلباء کو بدنام کرنے کی خاطر ٹکڑے ٹکڑے گینگ کی اصطلاح گھڑی گئی۔ ہم ذات پات اور صنفی درجہ بندی کی نشاندہی کرتے رہے ہیں تاہم مقامی سطح پر موجود درجہ بندی اس سے بھی زیادہ نمایاں شکل اختیار کررہی ہے یعنی معاشی عدم مساوات اور دولت کی بنیاد پر طبقاتی تقسیم پچھلے 12 برسوں کے دوران خاص کر کرونی سرمایہ داروں اور معاشرہ کے اعلیٰ طبقات کی واضح حمایت کی گئی۔ حالیہ عرصہ کے دوران ایک اچھی بات ہوئی کہ جو احتجاجی مظاہرے جنتر منتر سے شروع ہوئے ان مظاہروں نے سارے ملک کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ عوام کو یہ احساس ہوگیا کہ ملک کے متوسط لوگوں کے بنیادی مسائل کو بُری طرح نظرانداز کردیا گیا، اس کے ساتھ ہی ملک کی جمہوریت میں تازہ ہواؤں کے جھونکے محسوس کئے جانے لگے جس سے ہندو قوم پرستوں میں پریشانی و مایوسی کی لہر پھیل گئی۔ حالانکہ اس حقیقت سے بھی سب واقف ہیں کہ الیکشن کمیشن، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ، سی بی آئی، پولیس، یونیورسٹیز اور تدریسی اداروں میں آر ایس ایس کے لوگ دراندازی کرچکے ہیں۔