موجوں کی سیاست سے مایوس نہ ہو فانیؔ
گرداب کی ہر تہہ میں ساحل نظر آتا ہے
دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے شروع کیا گیا پرامن احتجاج تقریبا دس دن سے جاری ہے ۔ دس دن گذرنے کے باوجود کاکروچ جنتا پارٹی کے کارکن اور ان سے یگانگت رکھنے والے افراد احتجاج ختم کرنے کو تیار نہیں ہیں بلکہ دارالحکومت دہلی کے اطراف والی ریاستوں اور شہروں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اس احتجاج میںحصہ لینے یا احتجاجیوںکو حوصلہ دینے کیلئے وہاں پہونچ رہے ہیں۔ ممکنہ حد تک وہاںرکنے کے بعد وہ واپس بھی ہو رہے ہیں۔ ملک کے نوجوان اور طلباء کی جانب سے دس دن سے احتجاج جاری رہنے کے باوجود بھی حکومت کی جانب سے کسی طرح کے ردعمل کا اظہار تک نہیں کیا جا رہا ہے اور نہ ہی کوئی بیان دیا جا رہا ہے اور نہ ہی کوئی بات چیت کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اس طرح مرکزی حکومت ملک کے مستقبل اور نوجوانوں ہی کو نظر انداز کر رہی ہے ۔ طلباء کے مطالبات کی سنوائی کرنے تک کیلئے حکومت تیار نہیں ہے اور اس کا نتیجہ ہے کہ احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ دہلی میں حالیہ برسوں میں دو احتجاج بڑے مشہور ہوئے تھے ۔ ایک تو کسانوں کی جانب سے تین سیاہ قوانین کے خلاف شروع کیا گیا احتجاج تھا تو دوسرا سی اے اے اور این آر سی کے خلاف شروع کیا گیا شاہین باغ کا احتجاج تھا ۔ اب ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ جنتر منتر پر شروع کیا گیا طلباء کا احتجاج بھی بتدریج شاہین باغ بننے لگا ہے ۔ یہاں نہ صرف نوجوان احتجاج کر رہے ہیں بلکہ طلباء کے والدین بھی پہونچ رہے ہیں۔ خواتین پہونچ رہی ہیں۔ سماجی جہد کاروں کی آمد و رفت جاری ہے ۔ کچھ سابق فوجی اہلکار بھی ان سے اظہار یگانگت کیلئے آرہے ہیں اور حکومت کو سیاہ قوانین واپس لینے پر مجبور کرنے والے کسان بھی دہلی پہونچ رہے ہیں۔ کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے تو ہزاروں ٹریکٹرس کے ساتھ دہلی پہونچ کر اس احتجاج میں شامل ہونے کا اعلان بھی کردیا ہے ۔ مسلسل احتجاج کی وجہ سے ایک طرح کا ماحول پیدا ہونے لگا ہے اس کے باوجود حکومت خاموشی توڑنے کو تیار نہیں ہے ۔
جس طرح سے شاہین باغ میں ہزاروں خواتین نے لگاتار احتجاج کیا تھا اور اپنے کھانے ‘ پینے اور صحت کی پرواہ نہیں کی تھی اسی طرح کاکروچ جنتا پارٹی کے کارکن اور ان سے ہمدردی رکھنے والے نوجوان اور طلباء بھی کسی بھی شئے کی پرواہ کئے بغیر احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ شاہین باغ شدید اور کڑاکے کی سردی میں ہوا تھا اور جنتر منتر پر طلباء کا احتجاج جھلسادینے والی گرمی میں ہو رہا ہے ۔ سماج کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد یہاں ایک دوسرے کی مدد اور تعاون کیلئے پہونچ رہے ہیں۔ احتجاج پر نوجوانوں سے بات کرنے اور ان کے مطالبات کی سماعت کرنے کی بجائے حکومت کی جانب سے احتجاج میںکھانے اور پینے کے سامان کی فراہمی پر سوال کیا جا رہا ہے اور یہ الزامات عائد کئے جا رہے ہیں کہ اس احتجاج کو بیرون ملک سے فنڈنگ ہو رہی ہے ۔ اس احتجاج میں شامل نوجوانوںکو دہشت گردوں کی بی ٹیم قرار دیا جا رہا ہے ۔ یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ملک کا مستقبل سمجھے جانے والے طلباء اور نوجوانوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے اور شعبہ تعلیم میںجاری بدعنوانیوںاور اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے پر انہیں دہشت گردوں کی بی ٹیم قرار دیا جا رہا ہے ۔ ان کی مطالبات پر کان دھرنے کو حکومت بالکل تیار نہیں ہے ۔
حالانکہ گودی میڈیا کی جانب سے اس احتجاج کو پوری طرح نظر انداز کردیا گیا ہے اور اس کی تشہیر یا اس پر مباحث سے سیاسی آقاوں کو حوش کرنے گودی میڈیا پوری طرح سے دور ہے لیکن سوشیل میڈیا پر اس تعلق سے جو مہم چلائی جا رہی ہے اور اپنے طور پر ہر کوئی اس کی تشہیر کر رہا ہے اس کے نتیجہ میںاس احتجاج کے تعلق سے سارے ملک میں ہمدردی کی لہر پیدا ہونے لگی ہے اور ایک اور شاہین باغ بنتا نظر آر ہا ہے ۔ جس طرح شاہین باغ میں بھی کوئی احتجاج نہیں ہوا تھا اسی طرح جنترمنتر پر بھی احتجاج مکمل پرامن ہے اور اس کی طوالت سے حکومت کو نوجوانوں کی بات سننے پر مجبور ہونا پڑے گا ۔