جنسی ہراسانی پر معذرت کرنے والے سابق ڈپٹی چیف منسٹر نے اپنا موقف بدل لیا

   

عوام کے سامنے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے ، خاتون سرپنچ نے حیرت کا اظہار کیا ، آئندہ چوکنا رہنے کا انتباہ
حیدرآباد ۔ 15 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : جنسی ہراسانی الزامات کے بعد خاتون سرپنچ سے دو دن قبل معذرت خواہی کرنے والے ڈپٹی چیف منسٹر و رکن اسمبلی بی آر ایس ٹی راجیا آج جذباتی ہوگئے ۔ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے کہا کہ سیاسی طور پر ان کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہونے والے قائدین ان پر من گھڑت الزامات عائد کرتے ہوئے ایک خاتون کو میرے خلاف استعمال کیا گیا ہے ۔ سابق ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ انہوں نے کوئی غلطی نہیں کی ہے ۔ اگر ہمت ہے تو مخالفین کو ان کے خلاف مقابلہ کرنے کا چیلنج کیا ۔ کوئی بھی کتنی بھی سازشیں کرلیں وہ اسمبلی حلقہ اسٹیشن گھن پور سے 5 ویں مرتبہ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ۔ کرونا پورم میں منعقدہ فادر کولمبو کی سالگرہ تقریب میں حصہ لیتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ واضح رہے کہ بی آر ایس کی سرپنچ نویا نے راجیا کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کئے تھے ۔ نویا اور راجیا کے درمیان بی آر ایس کے سینئیر قائدین نے مصالحت کا رول ادا کیا تھا جس کے بعد اتوار کو راجیا خود سرپنچ نویا کے گھر پہونچ گئے تھے ۔ انہوں نے نویا سے معذرت خواہی کی تھی جس کے بعد مسئلہ خوشگوار انداز میں حل ہوگیا تھا ۔ معذرت خواہی کے دو دن بعد سابق ڈپٹی چیف منسٹر ٹی راجیا نے آج یو ٹرن لے لیا ہے ۔ آج انہوں نے اپنے مخالفین پر بیٹی کے برابر خاتون کا استعمال کرتے ہوئے ان کے سیاسی امیج کو داغدار بنانے کی سازش کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ خاتون سرپنچ نے رکن اسمبلی کے تازہ موقف پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے جنسی ہراسانی کا جو الزام عائد کیا ہے اس کا ایک ایک لفظ درست ہے ۔ انہوں نے بی آر ایس کے رکن اسمبلی ٹی راجیا کے خلاف جو بھی الزام عائد کیا تھا اس پر آج بھی قائم ہے ۔ میڈیا کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معذرت خواہی کرنے کے دوسرے دن سابق ڈپٹی چیف منسٹر نے اپنے موقف کو تبدیل کردیا ہے ۔ جس پر انہیں حیرت ہے ۔ سرپنچ نویا نے کہا کہ اگر راجیا ان کے ساتھ دوبارہ وہی حرکت کرتے ہیں تو برداشت نہ کرنے کا انتباہ دیا ۔۔ ن