برلن : جولیان اسانج کی اہلیہ اسٹیلا کا الزام ہے کہ جنگی جرائم کو بے نقاب کرنے پر امریکہ نے ایک غیر ملکی صحافی کو نشانہ بنایا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے شوہر کی زندگی کا انحصار اس پر ہے کہ ان کی حوالگی کا فیصلہ واپس لیا جائے۔انسانی حقوق کی وکیل اور وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج کی اہلیہ اسٹیلا اسانج کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کی حوالگی کے لیے جاری کوشش نے دنیا بھر میں آزادی صحافت کے لیے ایک خطرناک نظیر قائم کی ہے۔جولیان اسانج جنگی جرائم کی تفصیلی خفیہ دستاویزات شائع کرنے کے لیے جاسوسی سمیت 18 مجرمانہ الزامات میں امریکہ کو مطلوب ہیں۔ اگر انہیں امریکہ کے حوالے کیا جاتا ہے، تو انہیں 175 برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔اسانج کی اہلیہ نے ڈی ڈبلیو کے نامہ نگار برائٹ ماس سے بات چیت میں کہا، ”عالمی سطح پر یہ آزادی صحافت پر سب سے خطرناک حملہ ہے کیونکہ یہ امریکہ ہی ہے جو بیرون ملک کام کرنے والے ایک غیر ملکی صحافی کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔