معذوری جسم میں نہیں سوچ کی ہے ۔ نصف مفلوج رمیش نائیک بنا نوجوانوں کے لیے رول ماڈل
حیدرآباد ۔ 12 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : زندگی اکثر انسان کو ایسے موڑ پر لاکھڑا کرلی ہے جہاں سے آگے کے تمام راستے بند دکھائی دیتے ہیں ۔ ایسا ہی کچھ حیدرآباد کے رمیش نائیک کے ساتھ ہوا جب ایک غیر متوقع حادثے نے ان کی ہستی کو ہلاکر رکھ دیا ۔ جسم کا آدھا حصہ ہمیشہ کے لیے مفلوج ہوگیا اور وہ وہیل چیئر کا محتاج ہوگیا ۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ مایوسی کے اندھیروں میں انہیں خود کشی کا المیہ ہی آخری راستہ نظر آنے لگا ۔ لیکن رمیش نائیک نے اپنی 9 سالہ بیٹی کے لیے زندگی کا نیا سفر شروع کیا اور پورے خود اعتمادی کے ساتھ وہیل چیئر پر بیٹھ کر نہ صرف پورے خاندان کی کفالت کررہا ہے بلکہ معاشرے کیلئے ایک روشن مثال بن چکا ہے ۔ رمیش نائک نے بیساکھیوں اور وہیل چیئر کو اپنی کمزوری بنانے کے بجائے اپنی طاقت بنالیا ۔ وہ حیدرآباد کی سڑکوں پر زوماٹو ڈیلیوری بوائے کے طور پر کام کرتا ہے تاکہ اپنے خاندان کا پیٹ پال سکیں ۔ لیکن ان کی پرواز صرف یہیں تک محدود نہیں ہے ۔ رمیش اس یقین کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے کہ زندگی میں ابھی بہت کچھ حاصل کرنا باقی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ’ پیرا اسپورٹس ‘ ( معذور افراد کے کھیلوں ) میں بھی حصہ لے رہا ہے اور اپنی انتھک محنت کے بل بوتے پر کھیلوں کی دنیا میں اپنی منفرد شناخت بنا رہا ہے ۔ رمیش کی یہ کہانی تلنگانہ اور ملک بھر کے ان لاکھوں نوجوانوں کے چہرے پر ایک زور دار طمانچہ ہے جو مکمل صحت مند ہیں ۔ جن کے ہاتھ پیر آنکھیں اور دماغ سب کچھ سلامت ہے ۔ لیکن وہ پھر بھی کچھ نہیں کرتے ۔ جو ہر وقت نوکری نہ ملنے ، قسمت کے خراب ہونے یا والدین کے غریب ہونے کا شکوہ کرتے ہیں اور سستی و کاہلی میں اپنی زندگی برباد کررہے ہیں ۔ رمیش نائیک ان سب کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ معذوری جسم میں نہیں انسان کی سوچ میں ہوتی ہے ۔ اگر ایک آدھا مفلوج انسان وہیل چیئر پر بیٹھ کر حیدرآباد کی ٹریفک میں گھوم کر کما سکتا ہے اور اسپورٹس میں میڈل جیت سکتا ہے تو تمام صلاحیتوں سے مالا مال نوجوان کیسے مایوس ہو کر بیٹھ سکتا ہے ۔۔ 2/m/b