عیدقربانی کے موقع پر صفائی کا خاص خیال رکھنے اور آپسی رنجشوں کو ختم کرلینے مولانا جعفر پاشاہ کی تلقین
حیدرآباد۔ 9 جولائی ۔ ( پریس نوٹ ) امیر ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھراپردیش مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ نے دنیا بھر کے اور بالخصوص ملک و ریاست تلنگانہ و آندھراپردیش کے مسلمانوں کو حج اکبر کی عظْم الشان نعمت سے سرفراز ہونے اور کعبۃ اﷲ میں حاضری کی لازوال نعمت و دولت سے مشرف ہونے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی ہے اور توقع ظاہر کی کہ اﷲ رب العزت کے بے پناہ کرم و عنایات اور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اﷲعلیہ و سلم کے صدقہ و طفیل میں حجاج کرام کے بقیہ تمام عبادات انتہائی پرسکون انداز میں تکمیل پاجائیں گے ۔ مولانا نے مزید کہا کہ جن مسلمانوں نے جاریہ سال حج کو جانے کی کوشش کی اور اپنی تمام تر کوششوں و خواہش کے باوجود حج کو نہ جاسکے وہ اﷲ رب العزت کی ذات و رحمت سے ہرگز مایوس نہ ہوں انشاء اﷲ یہ بابرکت کوششیں پوری ہوکر رہیں گی ۔ مولانا جعفر پاشاہ نے عیدالاضحی کی پُرخلوص مبارکباد دیتے ہوئے عامتہ المسلمین بالخصوص نوجوان و صحتمند اصحاب سے کہا کہ عیدگاہوں میں نماز عید ادا کریں اور جن رشتہ داروں اور احباب سے ہم نے اپنا تعلق ختم کرلیا ہے اُن سے عید کے موقع پر ملاقات کرتے ہوئے رنجشوں و اختلافات کو ختم کرتے ہوئے تعلقات کو بحال کریں۔ مولانا نے بعض اُمور کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ عامتہ المسلمین قربانی کے جانوروں کی بھوک و پیاس کا پورا پورا خیال رکھیں ۔ اگر ہم نے ان کی بھوک و پیاس کا خیال نہ رکھا تو آخرت میں اس کا بھی جواب دینا ہوگا ۔ مولانا نے عیدالضحیٰ کے موقع سے صفائی کا بطور خاص خیال رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ وقفہ وقفہ سے بارش کا سلسلہ بھی جاری ہے ایسے حالات میں صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا بیحد ضروری ہے ۔ مولانا نے یہ بھی کہا کہ گھروں سے گندگی گلیوں یا سڑک پر بہاکر اپنی ذمہ داری کو ختم نہ سمجھیں بلکہ گندگی کو مناسب جگہ تک پہنچادیں اور قربانی کے بعد غلاظت اور چارہ وغیرہ کو کچرہ پھینکنے کے مقام پر بے ڈھنگے و نامناسب انداز میں پھینکنے کے بجائے پالی تھین کور میں ڈالکر پھینکیں ۔ مولانا نے کہاکہ گھروں کے اطراف و اکناف ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کی جہاں تمام شہریوں پر ہمیشہ ہی سماجی ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہیں اسلام نے ہر ہمیشہ ہی صاف ستھرا ماحول رکھنے اور رہنے کی سخت تاکید کی ہے ۔ مولانا نے کہاکہ مالدار رشتہ داروں کو ہی قربانی کا بہتر و عمدہ گوشت کا حصہ دینے کے بجائے غریب و مستحق رشتہ داروں کو گوشت کا بہتر و عمدہ حصہ دیا جائے ۔ مولانا جعفر پاشاہ نے آخر میں یہ بھی کہا کہ نوجوان اور صحتمند اصحاب عیدگاہوں میں نماز عید ادا کریں۔