حزب اللہ‘ حماس او راسلامی جہاد کے قائدین کی اسرائیل کے ساتھ جنگ میں شدت کے پیش نظر ملاقات

,

   

ان کے درمیان اس بات پر تبادلہ خیال ہوا کہ ”غزہ او رمغربی کنارہ کے مظلوم اور ثابت قدم لوگوں کے خلاف اسرائیل کی غدارانہ اوروحشیانہ جارحیت کو روکنے کے لئے کیاکرنا چاہئے“۔


حماس او راسرائیل کے درمیان جنگ کے پیش نظر لبنانی گروپ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ نے حماس کے ڈپٹی لیڈر صالح العروری اور اسلامی جہاد تحریک کے لیڈر زائد النخلہ سے بیروت میں ملاقات کی۔

حزب اللہ کے المنار ٹی کے بموجب نصرا للہ نے النخلہ او رالعروری کے ساتھ جائزہ لیا کہ ”بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر جو موقف اختیار کیاگیا ہے اورغزہ اور فلسطین میں مزاحمت کے لئے حقیقی فتح حاصل کرنے کے لئے مزاحمتی محور کی جماعتوں کو اس حساس مرحلے پر کیا کرنا چاہئے“۔

ان کے درمیان اس بات پر بھی تبادلہ خیال ہوا کہ ”غزہ او رمغربی کنارہ کے مظلوم اور ثابت قدم لوگوں کے خلاف اسرائیل کی غدارانہ اوروحشیانہ جارحیت کو روکنے کے لئے کیاکرنا چاہئے“۔

https://x.com/TVManar1/status/1717059507388350762?s=20

مذکورہ قائدین نے ”مستقل او ریومیہ اساس پر پیش رفت کے متعلق مسلسل اشتراک اور رابطے“ پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

لبنان اسرائیل سرحد پر کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے کہ جبکہ حزب اللہ ممبرس اکٹوبر9ہفتے کے روز حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیلی دستوں کے ساتھ فائرینگ کے تبادلے میں مصروف ہیں۔

اسرائیلی دستوں کی جانب سے 19ویں روز بھی شدید چھاپہ ماری کو جاری رکھے ہوئے جس نے غزہ کے تمام محلوں کو تباہ کردیاہے‘ 5791فلسطینی جاں بحق ہوگئے جس میں 2360بچے

اور 1292خواتین اور 295معمرین شامل ہیں جبکہ 16297لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

وہیں حماس نے 1400اسرائیلیو ں کوماردیاہے 5132زخمی ہوئے ہیں اور200سے زائد اسرائیلی یرغمال بنالئے ہیں جس میں فوج کے اعلی حکام بھی شامل ہیں۔