حضور اکرم ؐ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے دنیا کا فتنہ و فساد ختم

   

غلامانِ مہدی کا جشن میلادالنبیؐ کنونشن، مولانا سید مطیع اللہ ذاکر منوری و دیگر کا خطاب

حیدرآباد۔31اگست(پریس نوٹ) پروردگارعالم نے ایمان والوں کو تاکید کرتے ہوئے کہاہے کہ اپنے حبیب ؐ کی آواز پر اپنی آواز کو بلند نہ کریں ‘‘ ورنہ سارے اعمال غارت ہوجائیں گے ۔ ادب رسول مقبولﷺ مومنین پر لازم ہے ۔ قدرت تھوڑی سی گستاخی بھی اپنے حبیب ؐ کی شان میںبرداشت نہیں کرسکتی ہے ۔ غلامانِ مہدی کے زیر اہتمام منعقدہ جشن میلاد النبیؐ کنونشن سے خطاب کے دوران مولانا سید مطیع اللہ ذاکر منوری صدر مجلس علمائے ہند مہدویہ ان خیالات کا اظہار کیا۔ قاری سید نظام الدین اشرفی کی قرات کلام پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا ۔ سید حسین بخاری سعیدؔ نے حمد پیش کی۔ انہوں نے مزیدکہاکہ پروردگارکسی اور سے نہیںبلکہ مومنین کو ادب رسول ﷺ کی تاکید کررہا ہے ۔ ادب محمد رسولﷺ کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ادب اکابرین ملت اسلامیہ نے کیا ہے ۔ انہوں نے امام ابوحنیفہؒ کے مدینہ منورہ میں قیام پذیر ہونے اور درس حدیث شروع کرنے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہاکہ امام مالک ؒنے مدینہ منورہ میںقیام کے دوران اپنی ساری زندگی کبھی پیروں میںچپل نہیںپہنی اور ننگی پیر رہے پوچھنے پر کہا کہ ادب مصطفیﷺ میں چپل نہیںپہنا‘ کیونکہ معلوم نہیںسرور انبیاءﷺ نے مدینہ کی سرزمین پر کہاں کہاں اپنے قدم مبارک رکھے ہوں گے اور اگر غلطی سے ان مقامات پر میرے پیر چپل کے ساتھ پڑ جائیں تو مجھ سے یہ گستاخی ہوجائے گی۔ مولانا سید بختیارعالم نائب صدر مجلس علمائے مہدویہ ہند نے سرور کونینﷺ کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسلام کے پہلے نعت خواں شاعر حضرت حسان بن ثابتؓ ہیں ۔ انہو ںنے مزیدکہاکہ اسلام قبول کرنے سے قبل حضرت حسان اسلام او رپیغمبر اسلامﷺ کے خلاف اشعار کہا کرتے تھے مگر جب اسلام قبول کرلیاتو پھر آپؓ کی ساری شعری صلاحیتیں سرور کونینﷺ کی مداح سرائی میںہی استعمال ہوئیں۔ حضرت حسانؓ وہ عرب کے شاعر ہیں جن کے اشعار سرور کونینﷺ نے سماعت فرمائے اور حضرت حسانؓ کو داد وتحسین سے نوازا ہے۔معلم انسانیتﷺ کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے مولانا سید مسعود حسین مجتہدی رکن مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہاکہ سرکارﷺ کے تعلیمات صبح قیامت سے ساری انسانیت کے لئے روشن چراغ ہیں۔ اگر انسان تعلیمات سرور انبیاءﷺ پر عمل پیر ا ہوجائے تو پھر دنیا میں فتنہ وفساد‘ شر انگیزی کی گنجائش باقی نہیںرہے گی اور سارے دنیا میںامن کا بول بالا ہوگا۔ یتیموں سے شفقت‘ بیوائوں سے ہمدردی ‘ مفلسوں کی مدد‘ غریبوں کی غمگساری ‘ عفو ودرگذر ‘ ایثار وقربانی کا درس ہمیںپیغمبر اسلامﷺ سے ملا ہے۔مولانا سید عطن سلمان خوندمیری نے اطاعت رسولﷺ ‘مولانا سید محمود اشرف مجتہدی کامل جامعہ نظامیہ نے ورفعنا لکَ ذِکرک ‘ مولانا سید مصطفیٰ مبارک یداللہی نے فیضان مصطفی ﷺ‘مولانا سید عزیز محمد رضی میاں نے خلق نبی اکرمؐ‘مولانا سید شاہ نصیر الدین نظامی صحابہ اور عشق محمدؐ ‘ مولانا سید یداللہ مبشر مخصوصی نے رحمت العالمینﷺ‘ مولانا سید عمران ہادی خوندمیری نے نورِ محمدیؐ ‘مولانا سید خوندمیر اشرفی نے نورمجسم ‘مولانا سید نور محمد اسحاقی نے رہبر انسانیتﷺ کے عناوین پر خطاب کیا ۔ سید سمیع اللہ سمیع حسینی ؔ‘ سید رضا منظورؔ‘ شبیر علی خان شبیر نے نعت رسول مقبولﷺ کا نذرانہ پیش کیا۔ شکریہ کے فرائض مقتدر امیر علی خان نے ادا کئے جبکہ کنونشن کی کاروائی مولانا نعمت اللہ خان صوفی نے چلائی۔