بی سی طبقات سے ناانصافی کے خلاف جدوجہد کی ضرورت، وی ہنمنت راؤ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/26 جولائی، ( سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر قائد وی ہنمنت راؤ نے حق معلومات قانون میں حالیہ ترمیمات کو عوام کے مفادات کے برخلاف قرار دیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے کہا کہ حکومت حق معلومات قانون کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ عوام اپنے حقوق کے بارے میں معلومات سے محروم رہیں۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں حق معلومات بل میں ترمیمات کو یکطرفہ طور پر منظوری دی ہے۔ اپوزیشن کی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے اس بل کو کمزور کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یو پی اے حکومت نے اس قانون کو متعارف کیا تھا تاکہ عوام کو سرکاری سطح کی معلومات کے حصول میں آسانی ہو۔ انہوں نے اس قانون کی موجودہ حالت میں برقراری کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی حکومت خوفزدہ ہے کہ کہیں حکومت کی بے قاعدگیاں منظر عام پر نہ آجائیں لہذا اس قانون میں ترمیمات کرتے ہوئے عوام کو معلومات کے حصول کے حق سے محروم کردیا گیا۔ ہنمنت راؤ نے تحفظات کے سلسلہ میں کریمی لیر کے خاتمہ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جب تک کریمی لیر کو ختم نہیں کیا جاتا اس وقت تک پسماندہ طبقات کے طلبہ کو تعلیم و روزگار میں فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ منڈل کمیشن نے پسماندہ طبقات کو 27 فیصد تحفظات فراہم کئے ہیں۔ بظاہر یہ 27فیصد ہیں لیکن کریمی لیر کے سبب بیشتر طلبہ تحفظات کے فوائد سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر کسی کی سالانہ آمدنی میں اضافہ ہوچکا ہے اور بی سی طبقات کے طلبہ اپنے والدین کی آمدنی کے اعتبار سے کریم لیر کے دائرہ سے خارج ہورہے ہیں۔ ہنمنت راؤ نے بتایا کہ انہوں نے راہول گاندھی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کریم لیر کی برخواستگی کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے حکومت کو تجویز پیش کی تھی کہ پسماندہ طبقات کو انصاف فراہم کرنے کیلئے کریمی لیر کی حد ختم کردی جائے۔ منڈل کمیشن پر عمل آوری کو 26 سال مکمل ہوگئے لیکن آج تک پسماندہ طبقات اپنے جائز حقوق سے محروم ہیں۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کو بلالحاظ سیاسی وابستگی اس سلسلہ میں جدوجہد کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک یہ فیصلہ نہیں کیا جاتا اس وقت تک بی سی طلبہ کا مستقبل تابناک نہیں ہوگا۔