حمل ساقط کروانے والا شوہر اور ساس گرفتار و جیل منتقل

   

نند مفرور، متاثرہ خاتون کی شکایت کے بعد پولیس کی کارروائی
حیدرآباد ۔ 23 نومبر ( سیاست نیوز) لڑکی کی پیدائش کے خوف سے 6ماہ کے حمل کو زبردستی ساقط کروا دیا گیا اور فوری طور پر مردہ بچی کی تدفین بھی کردی گئی ۔ یہ دل دہلا دینے والا انسانیت سوز واقعہ پرانے شہر کے علاقہ حافظ بابا نگر میں پیش آیا ۔ تاخیر سے منظر عام پر آئے اس انسانیت سوز واقعہ میں پولیس کنچن باغ کی جانب سے گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں ہیں ۔ اس سلسلہ میں انسپکٹر پولیس کنچن باغ مسٹر وی آنند نے بتایا کہ تبسم بیگم کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے تبسم بیگم کے شوہر محمود اور ساس شمیم کو گرفتار کرتے ہوئے جیل منتقل کردیا جبکہ تبسم بیگم کی نند شہناز مفرور بتائی گئی ہے ۔ انسپکٹر پولیس نے بتایا کہ 14 نومبر کو تبسم کو حمل ساقط کرنے والی ادویات دی گئی اور 15 نومبر کو خاتون کی صحت بگڑنے سے اس کی ڈیلیوری کردی گئی جو 6ماہ کی حاملہ تھی ۔ ڈیلیوری میں مردہ بچی پیدا ہونے کے بعد اس کی تدفین بھی کردی گئی ۔ 16 نومبر کوتبسم اپنے مائیکے پہنچی جس کا پہلے چندرائن گٹہ کے ہاسپٹل میں علاج کروایا گیا اور اس کے بعد تالاب کٹہ کے ایک ہاسپٹل میں علاج کیا گیا ۔تبسم نے جب جبراً حمل ساقط کرنے کیلئے شوہر کی جانب سے دی گئی ادویات کا ذکر اپنے مائیکے میں کیا تو وہ لوگ پولیس اسٹیشن کنچن باغ سے رجوع ہوئے ۔ شوہر اور سسرالی رشتہ داروں پر لگائے گئے سنگین الزامات کا جائزہ لینے کے بعد پولیس نے فارنسک ماہرین اور تحصیلدار کی نگرانی میں تدفین کی گئی بچی کا پوسٹ مارٹم کروایا اور ابتدائی تحقیقات کے بعد تبسم کے شوہر محمود اور اس کی ساس شمیم کو گرفتار کرتے ہوئے جیل منتقل کردیا اور شہناز کی تلاش جاری ہے ۔ محمود پیشہ سے چائنا بازار میں کام کرتا ہے ۔ محمود اور تبسم کی شادی ڈھائی سال قبل ہوئی اور ان کی ایک دیڑھ سالہ لڑکی ہے ۔ تبسم جو چھ ماہ کی حاملہ تھی اس مرتبہ بھی لڑکی کی پیدائش کے خوف سے اس خاتون کے 6 ماہ کے حمل کو ساقط کروایا گیا ۔ انسپکٹر کنچن باغ نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے حصول کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی اور شہناز کو بہت جلد گرفتار کرلیا جائے گا ۔ ع