حکومت نے کہاکہ کسانوں کے ساتھ کسی بھی وقت بات کرنے کے لئے تیار

,

   

نئی دہلی۔تیسرے دن بھی کسانوں کے جاری احتجاج کے پیش نظر ہفتہ کے روز مذکورہ حکومت نے کہاکہ احتجاج کو ختم کرنے کے لئے کسی بھی وقت حکومت بات کرنے کے لئے تیار ہے۔

مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر نے احتجاج کرنے والے 32کسان یونینوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ 3ڈسمبر کے روز ان کے تشویش پر بات کرنے طئے ہے‘ مذکورہ یونینوں کے لیڈران اگر چاہئے تو حکومت ان سے بات کرے گی۔

اپنے احتجاج کو ختم کرنے کی کسانوں سے اپیل کرتے ہوئے مذکورہ منسٹر نے کہاکہ کسانوں کی یونینوں کے لیڈران کو چاہئے وہ بات چیت کے لئے ائیں کیونکہ تبادلہ خیال کے بعد ہی حل کا واحد راستہ نکلے گا۔

تومر نے پی ٹی ائی سے کہاکہ ”کسانوں کو چاہئے کہ وہ احتجاج کو ختم کریں او ربات چیت کے لئے اگے ائیں۔

مذکورہ حکومت مکمل طور پر تبادلے خیال کے لئے تیار ہے۔ اگر کسانوں کے یونینیں اپنے تجاویز روانہ کرتی ہیں تو ہم اس کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں“۔

انہوں نے کہاکہ ”کسان ہمارے لوگ ہیں ”مذکورہ وزرات زراعت کسانوں کی فلاح وبہبود کے لئے کام کررہی ہے“۔

مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے بھی کہاکہ کسانوں سے بات چیت کے لئے مرکز تیار ہے۔ مذکورہ احتجاج نئے زراعی قانون کے خلاف ہے جس سے کم سے کم حمایت قیمت(ایم ایس پی) تباہ ہوجائے گی اور زراعت کو کارپوریٹ میں تبدیل کردیاجائے گا

وہیں مرکز حکو مت اس بات پر قائم ہے کہ مذکورہ بل کسانوں کی حمایت میں ہوگا

تاہم ہزاروں کی تعداد میں کسان جس کا تعلق پنجاب‘ ہریانہ‘ اترپردیش سے ہے دہلی کے مختلف مقامات پر تیسرے دن بھی ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں۔

جن لوگوں کو قومی راجدھانی میں داخلہ کی اجازت ملی گئی ہے وہ نرانکاری میدان میں جمع ہیں جو شہر کا سب سے بڑا میدان ہے