اسمبلی میں ریاستی وزیر سریدھر بابو کا دعویٰ، 40 ہزار جائیدادوں پر تقررات، بی آر ایس، بی جے پی، مجلس اور سی پی آئی نے یونیورسٹی کے قیام کا خیرمقدم کیا
حیدرآباد ۔ یکم اگسٹ (سیاست نیوز) حکومت نے شہر کے مضافاتی علاقہ مچرلہ میں ’’ینگ انڈیا اسکلس یونیورسٹی‘‘ کے قیام کا اعلان کیا۔ اِس سلسلہ میں وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈی سریدھر بابو نے آج قانون ساز اسمبلی میں یونیورسٹی کے قیام کا بل متعارف کیا جسے مختصر مباحث کے بعد منظوری دی گئی۔ تمام اپوزیشن پارٹیوں نے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے مہیشورم کے قریب مچرلہ میں وسیع و عریض اراضی پر ینگ انڈیا اسکلس یونیورسٹی کے قیام کا خیرمقدم کیا اور حکومت کے اقدام کی تائید کی۔ یہ یونیورسٹی سرکاری اور خانگی اشتراک سے قائم کی جائے گی۔ اسمبلی اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی سریدھر بابو نے یونیورسٹی بل متعارف کیا اور کہاکہ 30 لاکھ بیروزگار نوجوان یونیورسٹی کے قیام کا انتظار کررہے ہیں جو اُن کے خوابوں کی تکمیل ہوگا۔ سریدھر بابو نے اپوزیشن سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ یونیورسٹی میں مختلف زمرہ جات بین الاقوامی معیار کے کورسیس متعارف کئے جائیں گے۔ اُنھوں نے بتایا کہ کئی نامور اداروں نے یونیورسٹی کے قیام میں تعاون کا یقین دلایا ہے۔ سریدھر بابو نے کہاکہ حکومت 2 لاکھ جائیدادوں پر تقررات سے متعلق اپنے وعدے کی تکمیل میں سنجیدہ ہے۔ عنقریب جاب کیلنڈر جاری کیا جائے گا۔ سریدھر بابو نے کہاکہ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد سے تقریباً 40 ہزار جائیدادوں پر تقررات مکمل کرلئے گئے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہر ضلع میں اسکل ڈیولپمنٹ سنٹرس قائم کئے جائیں گے۔ اسکلس یونیورسٹی اور ڈیولپمنٹ سنٹرس کے قیام کا مقصد ایس سی، ایس ٹی امیدواروں میں مختلف شعبہ جات کی مہارت پیدا کرنا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ تعلیمی سال 2024-25 ء میں پہلے بیاچ کے تحت 2 ہزار طلبہ کو تربیت دی جائے گی۔ اسکلس یونیورسٹی کے بارے میں حکومت نے کئی صنعتکاروں اور صنعتی اداروں سے مذاکرات کئے ہیں تاکہ یونیورسٹی کے فارغین کو روزگار کی فراہمی میں آسانی ہو۔ اُنھوں نے کہاکہ ڈگری، انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ سطح پر ڈپلوما کورسیس ایک تا دو سالہ میعاد کے رہیں گے جبکہ 3 تا 6 ماہ پر مشتمل سرٹیفکٹ کورسیس متعارف کئے جائیں گے۔ وزیر عمارات و شوارع کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہاکہ تلنگانہ کے بیروزگار نوجوانوں کو سابق کے سی آر حکومت نے مایوس کردیا تھا۔ کانگریس نے بیروزگار نوجوانوں سے کئے گئے وعدے کی تکمیل کی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اسکلس یونیورسٹی ملک میں اپنی نوعیت کی منفرد یونیورسٹی ہوگی۔ بی آر ایس ارکان کے احتجاج کے دوران اسپیکر جی پرساد کمار نے اپوزیشن ارکان کو یونیورسٹی کے مسئلہ پر اظہار خیال کا موقع دیا۔ بی جے پی فلور لیڈر مہیشور ریڈی نے یونیورسٹی کے قیام کی تائید کی اور کہاکہ مرکزی حکومت نے بھی اسکلس یونیورسٹی کے قیام کا منصوبہ بنایا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ یونیورسٹی کے قیام سے تلنگانہ کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے۔ مجلس کے جعفر حسین معراج نے بل کی تائید کی اور یونیورسٹی کا نام تلنگانہ اسکل یونیورسٹی رکھنے کی تجویز پیش کی۔ اُنھوں نے کہاکہ یونیورسٹی کے بارے میں وسیع تر مشاورت ضروری ہے لہذا بل کو سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کیا جائے۔ کانگریس کے سرینواس ریڈی اور بی جے پی کے پی ہریش نے بھی اسکلس یونیورسٹی کے قیام کا خیرمقدم کیا۔ بی آر ایس کے ہریش راؤ نے یونیورسٹی کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لئے بی آر ایس حکومت نے 10 برسوں میں کئی اقدامات کئے تھے۔ سی پی آئی کے سامبا سیوا راؤ نے اسکلس یونیورسٹی کے قیام کا خیرمقدم کیا اور کہاکہ مقررہ مدت میں یونیورسٹی کی سرگرمیوں کا آغاز ہونا چاہئے۔ کانگریس اور اپوزیشن ارکان کے اظہار خیال کے بعد چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اسکلس یونیورسٹی کی تفصیلات پیش کیں جس کے بعد بل کو منظوری دی گئی۔ 1