مچھروں سے پھیلاؤ کا خطرہ، کوئی ویکسین نہیں، احتیاط کی ضرورت
حیدرآباد۔/6جولائی، ( سیاست نیوز) ملک کے مختلف علاقوں میں کورونا وباء کے کیسس میں اضافہ کا رجحان ہے ایسے میں مچھروں کے ذریعہ پھیلنے والا ذیکا Zika وائرس نے عوام کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ حیدرآباد میں ذیکا وائرس کے کیسس میں اضافہ پر محکمہ صحت نے چوکسی اختیار کرلی ہے۔ ہندوستان کے مختلف شہروں میں یہ وائرس پایا گیا ہے جس کا اظہار انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ اور پونے کے تحقیقی ادارہ این آئی وی کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے۔ سائینسی جرنل میں شائع شدہ اسٹڈی رپورٹ میں ذیکا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے چوکسی کا مشورہ دیا گیا۔ اسٹڈی کے مطابق 1520 نمونوں کی جانچ کی گئی جن میں سے 67 ذیکا وائرس پازیٹیو پائے گئے۔ ایک سیمپل جو پازیٹیو پایا گیا وہ عثمانیہ میڈیکل کالج سے ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد کے علاوہ اترپردیش، مہاراشٹرا، کیرالا ، پنجاب، راجستھان، جھارکھنڈ اور دہلی کے مختلف علاقوں سے بھی ذکا وائرس کے پائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ یہ وائرس عام طور پر مچھروں کے ذریعہ پھیلتا ہے اور انفیکشن کی علامات زیادہ سنگین نہیں ہیں۔ ذیکا وائرس کی علامات اور اثرات ڈینگو بخار کی طرح پائی گئیں۔ ماہرین کے مطابق ذیکا وائرس حاملہ خواتین میں حمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور پیدائشی نقائص کے ساتھ بچے جنم لیتے ہیں۔ عام طور پر چھوٹے سر کے بچے ذیکا وائرس کے نتیجہ میں ماں کے پیٹ میں متاثر ہونے کا نتیجہ ثابت ہوئے ہیں۔ بالغ افراد میں وائرس کے نتیجہ میں قوت مدافعت کم ہوسکتی ہے۔ ذیکا وائرس مادہ مچھر سے پھیلتا ہے اور مَردوں سے خواتین میں منتقل ہوسکتا ہے۔ ماہرین نے بتایا کہ خون کی منتقلی سے بھی وائرس پھیلنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ اس وائرس کیلئے ابھی تک کوئی ویکسین ایجاد نہیں کی گئی اور ویکسین تیاری کے مرحلہ میں ہے۔ر