حیدرآباد میں معمولی بارش پر 4اموات، ذمہ دار کون ،حکومت کی مجرمانہ خاموشی

   

حیدرآباد : 15جون ( سیاست نیوز) شہر حیدرآباد اور اس کے مضافاتی علاقوں میں مانسون کی ابتدائی اور معمولی بارش نے جی ایچ ایم سی کے ناملوں کی صفائی اور مانسون ایکشن پلان کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے ۔ زیرزمین سیلابی نالوں اور ان میں کچرے کے ڈھیر ، ریت اور مٹی سے اس قدر بھر چکے ہیں کہ ان کے گہرائی کا وجود ہی ختم ہوچکا ہے ۔ حال ہی میں 9 اور 11جون کو ہونے والی معمولی بارش کے دوران متاثرہ سڑکوں اور کالونیوں کا زمینی معائنہ کیا گیا تو بلدی حکام اور انجنیئرس کی مجرمانہ لاپرواہی صاف نظر آئی جس کی وجہ سے کئی پوش اور گنجان آبادی والے علاقے جھیل کا منظر پیش کررہے تھے ۔ ان بارشوں کے دوران ناقص بلدیاتی نظام اور محکمہ برقی کی سنگین غفلت کی وجہ سے برقی شاک لگنے اور دیگر حادثات میں چار شہری اپنی قیمتی جانیں گنوا بیٹھے ۔ حیدرآباد میں عوام کی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے کے باوجود حکام اس طرح کام کررہے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے ۔ کارروائی کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہے ۔ حادثات کے بعد محکمہ برقی اور بلدی انجنیئرس ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں ۔ محکمہ برقی کا کہنا ہیکہ درختوں کی کٹائی اور صفائی جی ایچ ایم سی کی ذمہ داری ہے جبکہ میونسپل انجنیئرس کا کہنا ہیکہ برقی کے تاروں کی دیکھ بھال محکمہ برقی کی ذمہ داری ہے ۔ اتنے بڑے حادثات اور چار اموات کے باوجود حکومت کی جانب سے متعلقہ محکمہ جات سے کوئی پوچھ تاھ نہ کرنے اور متاثرین کے ارکان خاندان کیلئے کوئی ایکس گریشیا کا اعلان نہ کرنے پر عوامی حلقوں پر شدید ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ افسوسناک پہلو یہ ہیکہ کسی وزیر نے متاثرہ خاندان سے ملاقات بھی نہیں کی ۔ شہر میں راحت کاری کے انتظام اور نالوں کی ذمہ داری حیڈرا کو منتقل کی گئی ہے ۔ تینوں کارپوریشنس کے میونسپل انجنیئرس نے ہاتھ کھرے کردیئے ہیں ، وہ یہ کہہ کر اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں کہ مانسون کی تیاریوں میں اب ان کا کوئی رول نہیں ہے ۔ شہریوں کا سوال ہے کہ اگر معمولی بارش میں برقی اور بلدی حکام کی لاپرواہی چار جانیں لے سکتی ہے تو آنے والے پورے مانسون سیزن میں حیدرآبادی عوام کی جان و مال کی حفاظت کون کرے گا ؟ حکومت کو فوری طور پر خاطی عہدیداروں کے خلاف سخت کارروائی کرنا چاہیئے ۔ 2