حیدرآباد میں مکانات و جائیدادوں کی خرید و فروخت میں اضافہ

   

حیدرآباد:کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے سبب معیشت پر ہونے والے منفی اثرات کے باوجود شہر حیدرآباد میں رہائشی امکنہ و جائیدادوں کی خرید و فروخت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور گذشتہ یوم منظر عام پر آنے والی ایک رپورٹ میں اس بات کا دعوی کیا گیا ہے کہ شہر حیدرآباد میں رہائشی جائیدادو ںکی فروخت میں جاریہ سال کے تیسرے سہ ماہی کے دوران 76 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ شہر حیدرآباد اور چینائی میں رہائشی امکنہ کی فروخت میں اضافہ ریکارڈ کئے جانے پر مختلف گوشوں سے حیرت کا اظہار کیا جا رہاہے اور کہا جار ہاہے کہ شہر حیدرآباد میں جائیدادوںکی خرید و فروخت کا جائزہ لینے میں کوئی کوتاہی کی جا رہی ہے یا پھر فرضی اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ دعوی کیا جا رہاہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ شہر حیدرآباد ملک کے ان شہروں میں شمار کیا جانے لگا ہے جہاں لاک ڈاؤن کے دوران معیشت پر کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں لیکن یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ ماہرین کا کہناہے کہ شہر حیدرآباد میں جائیدادوں کی قیمتیں ملک کے دیگر شہروں بالخصوص ممبئی ‘ بنگلورو‘ کولکتہ اور دیگر مقامات سے کم ہونے کے سبب شہر حیدرآباد میں جائیدادوں کی خریدی کے رجحان میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق جولائی تا ستمبر کے دوران بنگلورو اور کولکتہ میں رہائشی جائیدادوں کی فروخت میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ سہ ماہ کے دوران بھی ان شہروں میں جائیدادوں کی قیمتو ںمیں گراوٹ ریکارڈ کی جاتی رہے گی۔ شہر حیدرآباد میں رہائشی جائیدادوں کی فروخت میں اضافہ کے سلسلہ میں رئیل اسٹیٹ تاجرین کا کہناہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کا بھی مثبت اثر رئیل اسٹیٹ شعبہ پر پڑرہا ہے۔