حیدرآباد میں پانچ برس میں قتل کے 572 واقعات

   

555 معاملات حل ۔ 83معاملات اب بھی زیر تفتیش۔ آر ٹی آئی جواب میں انکشاف
حیدرآباد۔16۔جون(سیاست نیوز) حیدرآباد پولیس کمشنریٹ کے حدود میں یکم جنوری 2021 سے جون 2026 کے درمیان مجموعی اعتبار سے 572 قتل کے مقدمات درج کئے گئے جن میں 555 قتل کے معاملات کو پولیس کی جانب سے حل کئے جانے کا دعویٰ کیا جا رہاہے۔ قانون حق آگہی کے تحت داخل درخواست کے جواب میں پولیس انتظامیہ سے فراہم تفصیلات انتہائی تشویشناک ہیں کیونکہ 572 قتل کے واقعات جو 2021 تا 2026 پیش آئے ہیں ان میں 83 معاملات اب بھی زیر تفتیش ہیں اور محض 36 قتل کے معاملوں میں مجرمین کو سزاء سنائی جاسکی ہے جبکہ 19 ملزمین کو بری کیا جاچکا ہے۔پولیس کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق 572 قتل معاملوں میں 555 مقدمات کو حل کرنے کے دعوے کے ساتھ یہ کہا گیا کہ ان مقدمات میں جملہ 1313 افراد ملوث رہے جن میں 1267 افراد کو گرفتار کرکے کارروائی کی گئی لیکن 34 ملزمین اب بھی مفرور ہیں ۔ جناب عبدالکریم انصاری جو قانون حق آگہی کے جہدکار ہیں اور تنظیم ’یوگانتر‘کے ساتھ سرگرم ہیں نے حیدرآباد کمشنریٹ کے حدود میں قتل کے واقعات اور ان سے متعلق کارروائیوں کی تفصیلات طلب کی تھیں جس کے جواب میں محکمہ پولیس سے اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ 83 قتل کے معاملات اب بھی زیر تفتیش ہیں جبکہ 369 قتل کے معاملات عدالت میں زیر دوراں ہیں۔ جہدکاروں و شہری حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والوں کا کہناہے کہ قتل معاملات میں انصاف رسانی کے عمل میں تیزی لانے کی ضرورت ہے تاکہ قتل معاملات میں ملوث افراد کے خلاف کاروائیوں کے ذریعہ قیام امن کو یقینی بنایا جاسکے۔3/k/b