ضروری دستاویزات کے بغیراجرائی، بھاری رقم کا حصول، اعلیٰ عہدیداروں کی چوکسی
حیدرآباد۔/5 مارچ، ( سیاست نیوز) حیدرآباد میں پیدائش اور اموات کے سرٹیفکیٹس کے حصول کے سلسلہ میں دفاتر اور می سیوا مراکز پر عوام کے ہجوم کا مفادات حاصلہ استحصال کرتے ہوئے اسکام میں ملوث ہیں۔ اعلیٰ عہدیداروں کو شہر کے مختلف بلدی سرکلس سے شکایات موصول ہوئی ہیں کہ عہدیدار ضروری دستاویزات کے بغیر بھاری رقومات حاصل کرتے ہوئے سرٹیفکیٹس جاری کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ 20 سال سے زائد کے پیدائشی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کیلئے عوام بلدی دفاتر اور می سیوا سنٹرس کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ نان اویلبیٹی سرٹیفکیٹ کے بغیر ہی عہدیداروں کی جانب سے سرٹیفکیٹس کی اجرائی کے معاملات منظر عام پر آنے کے بعد حکام نے چوکسی اختیار کرلی ہے۔ نان اویلبیٹی سرٹیفکیٹ دراصل ریکارڈ میں تفصیلات کی عدم موجودگی کا ثبوت ہوتا ہے۔ گذشتہ سال نومبر سے آج تک شہر کے فلک نما سرکل میں 80 سرٹیفکیٹس کی اجرائی کا معاملہ منظر عام پر آیا جو نان اویلبیٹی سرٹیفکیٹ کے بغیر ہی جاری کئے گئے۔ خیریت آباد، سکندرآباد، چارمینار اور گوشہ محل سرکل میں بھی مبینہ بے قاعدگیوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ 1998 میں پیدا ہونے والے افراد کو نومبر میں نان اویلبیٹی سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا۔ یہ سرٹیفکیٹ آدھار، ووٹر آئی ڈی، پاسپورٹ اور اراضی کے رجسٹریشن کیلئے استعمال کرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔ جی ایچ ایم سی کے سابق کمشنر لوکیش کمار کے دور میں تقریباً 36 ہزار فیک برتھ اینڈ ڈیتھ سرٹیفکیٹس کو منسوخ کیا گیا تھا۔ فیک سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے افراد کے خلاف آج تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض اعلیٰ عہدیداروں کی سرپرستی میں یہ اسکام جاری ہے۔ مسائل کی نوعیت کے اعتبار سے رقم حاصل کی جارہی ہے۔ ایک سرکل سے کم از کم 3 لاکھ روپئے کی آمدنی کی اطلاع ہے جبکہ بعض مقامات سے 5 لاکھ روپئے تک رقومات حاصل ہورہی ہیں۔ حال ہی میں چیف منسٹر ریونت ریڈی نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں کرپشن اور بے قاعدگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملہ کی جانچ کی ہدایت دی تھی۔ اطلاعات کے مطابق حال ہی میں فرضی فنگر پرنٹس کے ذریعہ بلدیہ سے 84 لاکھ روپئے اُڑا لئے گئے تھے اور ٹاسک فورس نے ملزمین کو حراست میں لیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے اسکام پر بھی پولیس توجہ مرکوز کرے گی۔1