حیدرآباد یونیورسٹی کے اسکالر کی طبی لاپرواہی کی وجہہ سے موت کے کچھ مہینوں بعد‘ گھر والوں نے انصاف کا مطالبہ کیا

,

   

سوریہ پوری فیملی میں کالج سے تعلیم حاصل کرنے والے واحد فرد تھا اور اپنی پی ایچ ڈی کی تکمیل سے کچھ دن ہی دور تھا
حیدرآباد۔غلط دوا دینے اور بڑی طبی لاپرواہی کی وجہہ سے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے ایک دلت اسکالر سوریہ پرتاب بھارتی کی غیرمتوقع موت کو چارماہ کا عرصہ گذر جاچکا ہے۔

یونیورسٹی آف حیدرآباد کے محکمہ انگریزی کا 30سالہ سوریہ ایک پی ایچ ڈی اسکالر تھا۔

پچھلے چار دنوں سے متوفی کے گھر والے سوریہ کے ساتھ انصاف کی گوہار کے لئے یونیورسٹی انتظامیہ سے ملاقات کے متمنی ہیں۔

اگست17کے روز سوریہ کو اسٹورک کیا اور اس کے جسم کا دایاں حصہ مفلوج ہوگیاتھا۔ یونیورسٹی ہیلتھ سنٹر کی ہدایت پر اس کو سٹیزن اسپتال میں علاج کے لئے داخل کیاگیاتھا۔

اس کا علاج کیاجارہا تھا اور اس کے ساتھ رہنے والوں نے اسپتال کی تمام ہدایتوں کو مطالبات کی بھی یکسوئی کی تھی۔

اگست18کے روز اسپتال نے سوریہ کا کویڈ 19کی جانچ کی جس میں اس کو منفی دیکھا گیاتھا مگر 24گھنٹوں بعد ایک آر ٹی سی پی آر جانچ کی گئی جس میں اس کو منفی قراردیاگیا‘ جس کی وجہہ سے اسپتال نے مزید علاج کرنے سے انکار کردیاتھا۔

اس تمام وقت کے دوران سوریہ الگ تھلگ رہا مگر اس کا ساتھ رہنے والوں میں سے ایک کسی طرح تک رسائی کرتا اور جانچ کرتا اور اس نے پایا کہ اس کو دورے پڑرہے ہیں۔ سوریہ کے علمی امور پر اس سے دھکہ لگا اور اس کو ونٹیلیٹر پر رکھا گیا۔

اس سے قبل 1.12لاکھ کے بل کے مقابل سٹیزن اسپتال نے ایک بڑا بل 1.57لاکھ کا تھمادیا۔ حالانکہ سوریہ ایک رجسٹرارڈ اسٹوڈنٹ تھا‘ انہوں نے کہاکہ زیادہ بل کی وجہہ اس کا عدم اندراج ہے۔

اس سے قبل طئے پائے بل کی ادائیگی کے بعد اخر کار سوریہ کو کانٹینٹل اسپتال منتقل کیاگیا۔

آر ٹی سی پی آر کی جانچ دو مرتبہ اینٹی باڈی جانچ کے ساتھ کی گئی‘ اور ان کو تمام جانچوں میں کویڈ19کے لئے مثبت پایاگیاتھا۔

اس کی حالت نہایت خراب ہوگئی اور تمام اعضاء اس کے ناکام ہوگئے تھے۔ سوریہ کو 21اگست کے روز 9:30برین ڈیڈ قراردیا اور 4:11بجے اسی روز مردہ قراردیاگیاتھا۔

کیمپس کے ہیلتھ سنٹر اور سٹیزنس اسپتال کی جانب سے مجرمانہ غفلت سوریہ کی موت کی وجہہ بنی۔

اس کے علاوہ انشورانس پالیسی کے اردگرد کے معاملات نہ صرف سوریہ بلکہ کیمپس کے متعدد طلبہ کی زندگیوں کومتاثر کررہے ہیں۔

ال انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسیشن کے ایک کارکن اور سوریہ کے قریبی دوست سونل ایس نارائن نے الزام لگایاکہ کیمپس پر اسٹوڈنٹ تنظیمیں انصاف کے لئے جدوجہد کررہے ہیں مگر انتظامیہ کی جانب سے کوئی موافق ردعمل نہیں مل رہا ہے۔

طلبہ نے اس کی فیملی کی مدد کے لئے چند ہ جمع کرنے کا بھی کام کررہے ہیں۔ چار ماہ گذر جانے کے بعد سوریہ کی فیملی کو انصاف نہیں ملا۔

دیہی اترپردیش کی ایک دلت کمیونٹی سے مذکورہ فیملی کا تعلق ہے۔

والدین دونوں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور ہیں جبکہ اس کا بھائی ممبئی میں مہاجر مزدوری کرتا ہے۔

سوریہ پوری فیملی میں کالج سے تعلیم حاصل کرنے والے واحد فرد تھا اور اپنی پی ایچ ڈی کی تکمیل سے کچھ دن ہی دور تھا۔

انصاف کی کوشش میں مذکورہ فیملی یوپی سے حیدرآبادکا سفر کرتے ہوئے یو او ایچ انتظامیہ سے ملاقات کے لئے پہنچی۔

کیمپس میں اسٹوڈنٹس کے بموجب گیسٹ ہاوز میں ان کے موثر قیام کے لئے بھی انہیں جدوجہد کرنا پڑا۔

وشال کمار سوریہ کا دوست او راسٹوڈنٹ جہدکار نے اپنے فیس بک پوسٹ میں کہاکہ یو او ایچ انتظامیہ کی جانب سے ”بے انتہا تذلیل“ کی وجہہ سے سوریہ کی والدہ دلبرداشتہ ہیں۔

سوریہ کی ماں نے فیس بک پر شیئر ایک ویڈیو میں کہاکہ ”حیدرآباد جیسے دوردرازکے مقام پر اس کے جانے سے ہم گھبرائے ہوئے تھے۔ مگر اس نے ہمیں بھروسہ دلایاکہ سب ٹھیک ہے“۔

مذکورہ گھر والوں نے کیمپس میں اسٹوڈنٹس جہدکاروں سے ملاقات کی اور اپنے بیٹے کے لئے جدوجہد کرنے کا ان پر زوردیاہے۔

صبح (چہارشنبہ 30ڈسمبر) سے سوریہ کے گھر والے اوردوست یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے ایک ملاقات کا موقع تلاش کررہے تھے۔

انتظامیہ بلاک میں آنے کی انہیں اجازت نہیں دی گئی اوروہ باہر انتظار کررہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کلیدی لوگ جیسے ڈی ایس ڈبلیو اور چیف آف وارڈن سے وہ فون پر بات بھی نہیں کرپارہے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ ان تمام کے نمبرات کو بلاک پر ڈال دیاگیاہے۔

جب سیاست ڈاٹ کی کام نے یونیورسٹی کے ترجمان سے بات کی تو انہوں نے اس معاملے پر کچھ بولنے سے انکار کیا۔سونل نے کہاکہ ”سوریہ کی موت طبی عدم نگہداشت سے بڑھ کر ہے۔

ذات پات کے دباؤ کی یہ ایک واضح مثال ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ اور سٹیزن اسپتال دونوں قصور وار ہیں۔

ہم طلبہ یونین اور دیگر اسٹوڈنٹ تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں اس کام میں سرگرمی کے ساتھ شامل ہوجائیں تاکہ سوریہ اور اس کی فیملی کو انصاف مل سکے“۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ کیمپس کے ہیلتھ سنٹر کی لاپرواہی سے ایک اسٹوڈنٹ کی جان گئی ہے۔

سال 2018میں سلسلہ وار غلط او رنامناسب علاج کی وجہہ سے فزیکس ڈپارٹمنٹ کی پی ایچ ڈی اسکالر رشمی رنجن سونا کی موت ہوگئی تھی۔

مذکورہ ہیلتھ سنٹر نے اس اسٹوڈنٹ کو ہیمگری اسپتال منتقل کیاجو یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ کے علاج کی فہرست سے پہلے ہی ہٹادیاگیاتھا اور بعد میں اس کو سٹیزن اسپتال بھیجا گیاتھا۔

سوریہ کے معاملے کی طرح رشمی رنجن سے بھی ہیمگری اور سٹیزن اسپتال نے بھاری رقم لوٹی تھی۔

طلبہ جہدکاروں نے انتظامیہ کو اپنے مطالبات پر مشتمل ایک طویل فہرست حوالے کی ہے جس میں تمام طلبہ کو فائدہ پہنچانے والے صحت کی نگرانی میں توسیع‘ پرائمری ہیلتھ سنٹر کوپرائمری کا درجہ دینا اور سوریہ کے علاج پر خرچ پیسے کی باز ادائیگی اور میڈیکل افیسر کے خلاف سخت کاروائی اس میں شامل ہے