آج احکامات جاری کرنے پر زور‘ریاستی وزراء کے ساتھ اجلاس
حیدرآباد ۔3:نومبر ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کے تناظر میں آج اپنی رہائش گاہ پر وزراء اتم کمار ریڈی، سریدھر بابو، دامودر راجنرسمہا، پی سی سی صدر مہیش کمارگوڑ اور سینئر عہدیداروں کے ساتھ ایک اجلاس میں مختلف امور کا جائزہ لینے کے بعد کی خصوصی بی سی کمیشن قائم کرنے کی ہدایت دی ہے۔چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بغیر قانونی پیچیدگیوں کے بلدیاتی اداروں کے بی سی ریزرویشن کا مناسب خیال رکھنے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر نے اس مشاورتی اجلاس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا کیونکہ ریاست میں سماجی، اقتصادی، تعلیمی، روزگار اور ذات کا سروے اس ماہ کی 6 تاریخ سے شروع ہورہا ہے۔ اس تناظر میں چیف منسٹر نے کہا کہ بی سی تحفظات سے متعلق مستقبل کی مشکلات اور قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کیلئے عدالتی فیصلوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔چیف منسٹر نے عہدیداروں کو حکم دیا کہ وہ فوری طور پر ہر ایک کی رائے پر مبنی بی سی وقف یعنی ڈیڈیکیٹیڈکمیشن قائم کریں۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں کو کل تک اس سے متعلق احکامات جاری کرنے کی بھی ہدایت دی۔ حکومت نے سب کی اتفاق رائے کے مطابق ایک ڈیڈیکیشن کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں کو متنبہ کیا کہ حکومت کے پاس کوئی تعصب نہیں ہے بلکہ وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ اس کام کو تکمیل کرے گی ۔ یہاں یہ تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ تلنگانہ ہائی کورٹ کے جسٹس سورے پلی نندا نے چہارشنبہ کو ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ دو ہفتوں کے اندر ’پسماندہ طبقات کمیشن‘ کی جگہ ایک ’ڈیڈیکیٹڈ کمیشن‘ تشکیل دے تاکہ مقامی اداروں میں پسماندہ طبقات کیلئے تحفظات کی تجرباتی تحقیقات کی جاسکے۔جج نے مشاہدہ کیا کہ تجرباتی ڈیٹا اکٹھا کرنے کا کام تلنگانہ اسٹیٹ کمیشن برائے پسماندہ طبقات کے حوالے کرنا سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کی بنچ کے فیصلے کیخلاف ہے۔3
یہ ہدایت وائی ایس آر سی پی کے سابق ایم پی آر کرشنیا کی طرف سے دائر ایک رٹ درخواست کی سماعت کے دوران منظور کی گئی تھی جس میں بی سی پینل کے ذریعہ کام کروانے کے بجائے بی سی پر تجرباتی ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لئے ایک خصوصی کمیشن تشکیل دینے کی ہدایت دی گئی تھی۔