خطبہ حجۃ الوداع ، انسانی حقوق کا عظیم منشور، عام کرنا ضروری

   


جمہوری ممالک میں بھی شہریوں کے حقوق سلب کئے جارہے ہیں، ظہیرآباد میں جماعت اسلامی کا اجتماع، ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد و دیگر کا خطاب

ظہیر آباد۔10۔دسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) جماعت اسلامی ہند ظہیر آباد کے مقامی شعبہ اسلامی معاشرہ کے زیر اہتمام ایک خطاب عام بعنوان” عالمی حقوق انسانی اور اسلام “کل شام اسلامک سنٹر لطیف روڈ ظہیر آباد پر محمد ناظم الدین غوری امیر مقامی کی نگرانی میں منعقد ہوا جس میں مہمان خصوصی مقرر ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد امیر مقامی چارمینار و سابق ایسوسی ایٹ پروفیسر سیاسیات حیدرآباد نے اپنے خطاب میں کہا کہ انسانی حقوق کے تحفظ کے بارے میں اس وقت ساری دنیا کافی فکر مند ہے ، اس کے لیے عالمی سطح سے لیکر ملکی سطح تک مختلف تنظیمیں اور ادارے کام کر رہے ہیں اس کے باوجود انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ ختم نہیں ہو رہا ہے ،جمہوری ممالک میں بھی شہریوں کے حقوق سلب کر لئے جا رہے ہیں خاص طور پر سماج کے پسماندہ اور کمزور طبقوں کے علاوہ اقلیتیں اپنے فطری حقوق سے بھی مستفید ہونے کے موقف میں نہیں ہیں بین الاقوامی سطح پر ہر سال 10/ دسمبر کو یوم انسانی حقوق بڑے جوش وخروش سے منایا جاتا ہے حکومتیں دیدہ و دانستہ عوام کے حقوق کی حفاظت کرنے میں ناکام ہوتی جارہی ہیں مختلف سیاہ قوانین کو وضع کر کے بنیادی حقوق کو بھی چھیننے کی کوشش کر رہی ہیں اس وقت انسانیت کا سب سے بڑامسئلہ انسانی حقوق کا تحفظ ہے جب تک معاشرے میں ظلم اور ناانصافی کاخاتمہ نہیں ہوگا انسانی حقوق کی فراہمی ممکن نہ ہوگی موجودہ دورمیں تعلیم و تہذیب کے عام ہونے کے باوجود انسان ایک دوسرے کے حقوق کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ہر شخص اپنے حقوق اور آزادیوں کے تحفظ میں لگا ہوا ہے اس سے سماج انتشار کا شکار ہوتا جا رہا ہے اسلام نے اس کا جامع تصور پیش کیا ہے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر احترام آدمیت کا درس دیا گیا ہے سارے انسانوں کو آدم کی اولاد قرار دے کر انہیں ایک کنبہ بتایا اسلام نے رنگ و نسل کے سارے امتیازات کو ختم کرتے ہوئے وحدت آدم کا پیغام دیا۔ داعی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم انسانی حقوق کے سب سے بڑے علمبردار رہے آپ صل وسلم کی بعثت سے پہلے حقوق انسانی کوپاؤں تلے روندا جا رہا تھا مظلوموں اور کمزوروں کی کوئی داد رسی نہ تھی تاریخ کے ایسے تاریک دور میں انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری ہوئی آپ نے 23 سال کے مختصر عرصے میں عرب کی کایا پلٹ کر رکھ دی جہاں انصاف اور مساوات کا کوئی تصور نہیں تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی حقوق کو معنی دیتے ہوئے اسے نافذ وجاری فرمایا محسن انسانیت نے جو خطبہ حجۃ الوداع دیا وہی دراصل تمام اقوام عالم کیلئے انسانی حقوق کا عظیم منشور ہے اپنے اس عظیم خطبہ میں آپ نے یہ ارشاد فرمایا کہ آج کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں ہے اور کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی ترجیح نہیں ہے یہ خطبہ حیات ہے جس پر عمل کرنے سے دنیا میں امن و یکجہتی قائم ہو سکتی ہے آج اگر دنیا سے ظلم و بربریت نسلی تفاخر اور نا انصافیوں اور تعصب کو ختم کرنا ہے تو اسلام کے اسی انسانی حقوق کے نظریہ کوعام کیا جائے اس کے سوا کسی اور ذریعے سے انسانی حقوق کی بازیابی کے خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں کیا جاسکتا دنیا نے انسانی حقوق سے متعلق ایک شاندار چارٹر تو بنا لیا لیکن اس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا اس وقت دنیا میں ہر طرف انسانی حقوق پر قد غن لگائی جا رہی ہے ایسے میں ضروری ہے کہ اسلامی حقوق کے نظریہ کو عام کیا جائے تاکہ دنیا جنت نشان بن سکے ، امت مسلمہ کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ سسکتی ہوئی انسانیت کو ظلم و ستم سے بچانے کیلئے آگے آئے اور ان طاقتوں کے خلاف ڈٹ جائے جوانسانی حقوق کی پامالی کرتے ہیں انہوں نے حق کی تلقین کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنے کامشورہ دیا ، امیر مقامی محمد ناظم الدین غوری نے اختتامی خطاب کیا اس پروگرام کا آغاز سید خلیل الرحمن وائس چیئرمین آئیڈیل انفارمیشن سنٹر فارڈس ایبلڈ حیدرآباد نے تذکیربالقرآن پیش کیا محمد معین الدین معاون امیرمقامی نے افتتاحی کلمات ادا کیا سید رؤف نے نظامت کی جبکہ محمد قیصر غوری سیکرٹری اسلامی معاشرہ نیاظہار تشکر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد نے مسجد بغدادی میں خطبہ جمعہ سے قبل حالات حاضرہ پر اور شاہین جونیئر کالج پر تعلیم کی اہمیت پر خطاب کیا اس موقع پر معززین شہر کی کثیر تعداد کے علاوہ خواتین کی قابل لحاظ تعداد بھی موجود تھی۔